
ہندوستانی زرعی مصنوعات کے لیے کھلیں گے نئے مواقع
سنجے ٹوٹیجا
نئی دہلی،29اگست (میرا وطن نیوز )
ہندوستان اور ارجنٹائن اپنے اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے اور تجارتی تعاون کے لیے نئی راہیں تلا ش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ دونوں ممالک نے اپنی اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی اتفاق رائے سے ارجنٹائن کی مارکیٹ میں ہندوستانی زرعی مصنوعات کے لیے نئے مواقع کھلنے کی امید ہے، جبکہ لیتھیم اور توانائی کے شعبوں میں ہندوستان کے لیے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔
باہمی تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرنے کی پہل نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ارجنٹائن کے دورے کے دوران زور پکڑا، جب ایک اسٹریٹجک اور اقتصادی شراکت داری کا روڈ میپ تیار کیا گیا۔ اس دورے کے بعد سے دو طرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 2025 تک، دونوں مما لک کے درمیان تجارت 6.5 بلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو کہ 17 فیصد سے زیادہ کی مسلسل سالانہ ترقی کی شرح کو ریکارڈ کرتی ہے۔ مزید برآں، ہندوستان ارجنٹائن کے پانچویں سب سے بڑے تجارتی شراکت دار کے طور پر ابھرا ہے۔
ہندوستان-ارجنٹینا جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی (جے ٹی سی) کی میٹنگوں کے ذریعے اس سمت میں کوششیں گز شتہ سال میں تیز ہوئی ہیں۔ چوتھی میٹنگ حال ہی میں بیونس آئرس کے پالاسیو سان مارٹن میں ہوئی تھی۔ ہندوستانی وفد کی قیادت مرکزی کامرس سکریٹری راجیش اگروال کر رہے تھے جبکہ ارجنٹائن کے وفد کی قیادت بین الاقوامی اقتصادی تعلقات کے سکریٹری سفیر فرنینڈو برون نے کی۔ ہندوستان کو امید ہے کہ ارجنٹائن نان ٹیرف رکاوٹوں کو کم کرنے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں تعا و ن کرے گا، اس طرح ہندوستانی کمپنیوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
دونوں ممالک اس وقت کان کنی، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔ ان امکانات کے درمیان، ایک ہندوستانی کمپنی نے ارجنٹائن کے صوبے کاٹامارکا میں لیتھیم کان کنی کا پہلا منصوبہ شروع کیا ہے، جس سے دوسری کمپنیوں کے لیے بھی اس کی پیروی کر نے کی راہ ہموار ہو گئی ہے ۔ اسی طرح کے مواقع ارجنٹائن کے صوبوں سالٹا اور جوجوئی میں بھی تلاش کیے جا رہے ہیں۔
ہندوستان زرعی مصنوعات کے لیے ارجنٹائن میں ایک اہم مارکیٹ دیکھتا ہے، اور جاری مذاکرات پیا ز، دودھ کی مصنوعات، انگور، آلو، کیلے اور دالوں کے لیے سینیٹری اور فائٹو سینیٹری (ایس پی ایس) اقد امات پر توجہ دے رہے ہیں۔ ان مذاکرات کے مثبت نتائج ہندوستانی کسانوں اور برآمد کنندگان کے لیے نئے مواقع پیدا کریں گے۔
اب تک ہونے والی بات چیت میں، ارجنٹائن نے اپنے فارما سیو ٹیکل ریگولیٹری فریم ورک کے اندر مختلف رکاوٹوں کو کم کرنے کی سمت کام کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس سے ہندوستانی دوا ساز کمپنیوں کے لیے زیادہ مواقع کھلیں گے۔ دونوں ممالک نے مستقبل میں ہوا بازی، خلائی ٹیکنالوجی، ٹیلی کمیونیکیشن ، ڈیجیٹل سروسز، 5جی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں تعاون کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
اس اقدام نے ہندوستانی کمپنیوں کے لیے اپنے ارجنٹائن کے ہم منصبوں کے ساتھ براہ راست بات چیت قائم کرنے، تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے نئی راہیں تلاش کرنے اور کلیدی شعبوں میں شراکت داری کے امکانات کی نشاندہی کرنے کی راہ ہموار کی ہے- بشمول زراعت، معدنیات، توانائی، فارما سیو ٹیکل، صحت کی دیکھ بھال، سیاحت، بینکنگ، اور ٹیلی کمیونیکیشن۔ نتیجتاً، مستقبل قریب میں ہندوستا ن-ارجنٹینا اقتصادی شراکت داری اور تجارت میں نمایاں توسیع متوقع ہے۔
No Comments: