Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

جامعہ میں ’گلوبل پیس ان ٹوینٹی ٹوینٹی سکس: چیلجنز اینڈ پروسپیکٹس ‘ کے موضوع پر خصوصی لیکچر منعقد`

بریٹ سیول نے جی پی آئی کے حوالے سے بدلتے ہوئے عالمی امن کے منظر نامے پر روشنی ڈالی

نئی دہلی ،28اگست (میرا وطن نیوز )
مرکز برائے فاصلاتی و آن لائن تعلیم(سی ڈی او ای)جامعہ ملیہ اسلامیہ نے نیلسن منڈیلا سینٹر فار پیس اینڈ کنفلکٹ ریزولیوشن (این ایم سی پی سی آر) کے اشتراک سے سی ڈی او ای کانفرنس ہال میں ’عالمی امن2026:چیلنجز اور امکانات‘ کے موضوع پر ایک خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا۔ اس پروگرام کا انعقاد وائس چانسلرپروفیسر مظہر آصف کی سرپرستی اوررجسٹرارپروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی کے تعاون و رہنما نئی میں کیا گیا۔
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں قائم ‘انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس(آئی ای پی) کے چیف آپریٹنگ آفیسر بریٹ سیول نے یہ اہم خطبہ دیا۔ پروگرام کا انعقاد سی ڈی او ای کے ڈائریکٹر اور این ایم سی پی سی آر میں پروفیسر کے عہدے پر فائز پروفیسر اسلم خان کی قیادت میں کیا گیا، جبکہ سینٹر کے ڈائریکٹر پرو فیسر ابوذر خیری نے مہمان مقرر اور شرکا کا خیرمقدم کیا۔
مہمان خطیب بریٹ سیول نے گلوبل پیس انڈیکس (جی پی آئی) کے حوالے سے بدلتے ہوئے عالمی امن کے منظر نامے پر روشنی ڈالی، جو تیئس اشاریوں کے توسط سے امن کا جائزہ لیتا ہے جن میں سماجی تحفظ اور سلامتی، جاری تنازعات اور عسکریت پسندی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 18 برسوں میں سے15 میں عالمی امن میں کمی آئی ہے اور اس نے تنازعات کی بدلتی ہوئی نوعیت کو اجاگر کیا ہے، جس میں بیرونی طاقتوں کے بڑھتے کردار، پراکسی ایکٹرز اور طویل تنازعات شامل ہیں۔
ہندوستان پر گفتگو کرتے ہوئے خطیب نے کہا کہ چھوٹے اور نسبتاً یکساں ممالک کے ساتھ موازنہ ہند و ستان کے حجم، تنوع اور جغرافیائی پیچیدگیوں کی مناسب عکاسی نہیں کرسکتا۔ اس سلسلے میں ان کا موقف تھا کہ چین، امریکہ اور برازیل جیسے بڑے ممالک کے ساتھ موازنہ زیادہ معنی خیز تناظر فراہم کر سکتا ہے ۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت اور ڈرون جنگ کے بڑھتے ہوئے استعمال کے بارے میں بھی بات کی، اور خاص طور پر روس یوکرین تنازعہ میں، اور جنگ کے لیے اے آئی اور امن کے لیے اے آئی میں سرمایہ کاری کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کی طرف توجہ مبذول کروائی۔
لیکچر پر اظہار خیال کرتے ہوئے این ایم سی پی سی آرکے پروفیسر راجیو نایان نے امن کی پیمائش کے لیے استعمال ہونے والے طریقہ کار اور اشاریوں کا تنقیدی جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔ہندو ستا نی فکری روایات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن کو بامعنی اور پائے دار بنائے رکھنے کے لیے اس کے ساتھ انصاف کا ہونا بھی ضروری ہے۔
اپنے اختتامی کلمات میں پروفیسر اسلم خان نے اس بات پر زور دیا کہ امن کو محض جنگ کی عدم موجودگی یا کسی ایک اشاریے کے ذریعے نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے ایک ایسے وسیع ترنظام پر مبنی نقطہ نظر کی ضر و رت پر زور دیا جو سلامتی، ترقی، طرزِ حکمرانی، ٹیکنالوجی، انصاف، ثقافت اور انسانی بہبود کے باہمی مربوط کرداروں کو تسلیم کرے۔ انھوں نے مقامی سیاق و سباق اور فکری روایات پر مبنی نقطہ نظر تشکیل دیتے ہوئے عالمی اشاریوں کا تنقیدی جائزہ لینے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
لیکچر کے بعد فیکلٹی اراکین، تحقیقی اسکالرس اور طلبہ کے ساتھ سوال و جواب کا مذاکراتی سیشن ہوا۔ پروگر ام کا اختتام این ایم سی پی سی آر کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سدھانشو ترویدی کے اظہارتشکر پر ہوا۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *