
کیا مسلم اراکین اسمبلی اکثریتی مسلم اقلیت کی نمائندگی کے سوال پر اپنی آواز بلند کریں گے؟
کانگریس کی شیلا دکشت سرکار میں ظفر علی نقوی ،کمال فاروقی ،صفدر حسین خان اورقمر احمد چیئر مین بنے
عام آدمی پارٹی کی مدت کار میں ڈاکٹر ظفر الاسلام خان اور ذاکر خان کو چیئر مین بنایا گیا تھا
نئی دہلی ،26جولائی (میرا وطن نیوز )
دہلی کے اقلیتی سماج میں مسلم اکثریت اقلیت سماج کو نظر انداز کر دہلی میں بی جے پی کی ریکھا گپتا سرکار کے ذریعہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے نرمل جین کودہلی اقلیتی کمیشن کی باگ ڈور دیے جانے پر مسلم حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ دہلی کی کل آبادی میں مسلم آبادی 13فیصد سے زیادہ ہے ،اور اقلیتوں میں مسلم سماج اکثریت میں ہے ،پھر بھی غیر مسلم لیڈر کو چیئر مین بنایا گیا ہے ،کیا یہ اقلیتوں کے ساتپ جانب داری اور نا نانصافی نہیں ہے؟ کیا آئین کے آرٹیکل 14،15 اور 29 کی خلاف ورزی نہیں ؟ سرکار کے فیصلے کے خلاف مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اقلیتی کمیشن کے چیئر مین عہدے پر مسلم کمیونٹی سے اہل شخص کی تقرری کی جائے،تقرری عمل میں شفافیت اور کمیونٹی کی شراکت داری طے کی جائے اور اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت اور ان کی ترقی کو ترجیح دی جائے ۔
قابل ذکر ہے کہ دہلی میں کانگریس کی شیلا دکشت سرکاریا پھر عام آدمی پارٹی کی کجریوال سرکاررہی ہو، ان دونوں ہی سرکاروں کی مدت کار میں دہلی اقلیتی کمیشن کا چیئر مین مسلم سماج سے ہی تقرر کیا گیا اور اس کی وجہ دہلی کی تمام اقلیتوں کی آباد میںمسلم آبادی کا اکثریت میں ہونا بھی بتایا جاتا ہے ۔حالانکہ اس کی دیگر آئینی وجہ بھی بتائی جاتی ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ کانگریس کی شیلا دکشت سرکار نے پہلی بار ظفر علی نقو ی کو دہلی اقلیتی کمیشن کا چیئر مین بنایا تھا اور اس کے بعد کمال فاروقی اور پھر صفدر حسین خان اور پھر آئی پی ایس قمر احمد دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئر مین بنائے گئے ۔
جبکہ عام آدمی پارٹی کی مدت کار میں ڈاکٹر ظفر الاسلام خان اور ذاکر خان کو دہلی اقلیتی کمیشن کا چیئر مین بنایا گیا تھا ۔ بتایا جاتا ہے کہ دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئر مین کے عہدہے پر کئی سالوں سے تقرری نہیں ہوئی تھی ۔ بہر حال ایک سال کے بعد ریکھا گپتا سرکار نے آخر کار کمیشن کی تشکیل تو کردی ہے لیکن مسلم سماج کو نظر انداز کیا گیا ،کیا اس تقرری کے خلاف اب دہلی کے مسلم ممبران اسمبلی اور میونسپل کونسلر آواز اٹھائیں گے؟
فی الحال میں دہلی میں چار مسلم ایم ایل ایز دہلی اسمبلی میں مسلمانوں کی نمائندگی کر رہے ہیں ،ان میں بلیماران سے عمران حسین ہیں جو دہلی کی آپ سرکار میں وزیر بھی رہے ہیں ۔اوکھلا سے امانت اللہ خان
،جو دہلی وقف بورڈ کے چیئر مین رہ چکے ہیں ۔مٹیا محل سے آل محمد اقبال ہیں جو دہلی کے ڈپٹی میئر بھی رہ چکے ہیں جبکہ سیلم پور سے چودھری زبیر احمد ہیں ۔چاروں ممبران اسمبلی عام آدمی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں ۔
اس سلسلے میںسوشل اینڈ آر ٹی آئی ایکٹوسٹ محمد شاہد گنگوہی نے دہلی مائنارٹی کمیشن کے ممکنہ چیئرمین کی تقرری کے سلسلے میں دہلی کے مسلم اراکینِ اسمبلی اور مسلم میونسپل کونسلروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اہم عوامی مسئلے پر اپنا واضح مو ¿قف عوام کے سامنے رکھیں۔انہوں نے کہا کہ اگر دہلی مائنارٹی کمیشن کے چیئرمین کا تقرر کیا جاتا ہے تو یہ ضروری ہے کہ پورا عمل شفاف، منصفانہ اور تمام اقلیتی برادریوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے انجام دیا جائے۔ دہلی مائنارٹی کمیشن ایکٹ کے تحت چیئرمین اور ارا کین کا تقرر دہلی کی نوٹیفائیڈ اقلیتی برادریوں میں سے کیا جاتا ہے۔
محمد شاہد گنگوہی نے کہا کہ دہلی میں مسلمانوں کی آبادی اقلیتی برادریوں میں سب سے زیادہ ہے۔ اگر اس برادری میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اس کی مناسب نمائندگی نہیں ہو رہی تو مسلم عوامی نمائندوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حکومت کے سامنے عوامی جذبات کی ترجمانی کریں۔انہوں نے سوال کیا کہ اگر مسلم ایم ایل ایز اور مسلم کونسلر اس معاملے پر خاموش رہتے ہیں تو عوام یہ جاننا چاہیں گے کہ آیا انہوں نے حکومت کے سامنے اپنا مو ¿قف رکھا یا نہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد کسی فرد یا کسی دوسری اقلیتی برادری کی مخالفت نہیں، بلکہ دہلی مائنار ٹی کمیشن میں شفافیت، مساوی مواقع اور منصفانہ نمائندگی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرنا ہے۔
No Comments: