Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

شاعری انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہے

غالب اکیڈمی کی ماہانہ شعری نشست میں ڈاکٹر جی آر کنول کا اظہار خیال

نئی دہلی ،22جولائی (میرا وطن نیوز)
غالب اکیڈمی میں گزشتہ روز ماہانہ شعری نشست کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت ڈاکٹر گلشن راے کنو ل نے کی۔ انہوںں نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ خسرو پیدا نہیں ہوگا، گلزار دہلوی زندہ ہوتے تو سو سال کے ہوتے۔لاہور میں اقبال،فیض ،احمد فراز باکمال شاعر تھے۔ غالب نے ہر موضوع پر شعر کہا ہے۔ذوق،انشا،مومن دبیر نے جو شعر کہے ہیں ان کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ جگر مراد آبادی جیسا غزل گو شاعر اب پیدا نہیں ہوگا۔شاعری نغمگی کا ٹکڑا ہے۔ خاموش گفتگو ہے۔ آج کی شاعری کو سماج کا آئینہ ہونا چا ہیے۔ آج کے مسائل کا اس میں عکس ملنا چا ہیے۔ شاعری زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ اس موقع پر موجود شعرا نے اپنے اشعار پیش کیے۔منتخب اشعار پیش خدمت ہیں
آندھیو سوچ کر بجھانا مجھے
ایک نایاب سا دیا ہوں میں
ڈاکٹر جی آر کنول
قرار دل کو نہیں کیوں مجھے نہیں معلوم
کن الجھنوں میں گھر ا ہوں مجھے نہیں معلوم
ظہیر احمد برنی
کبھی جھوٹی ستائش کی طلبگاری نہیں ہوتی
غزل پڑھتے ہو ئے ہم سے ادا کاری نہیں ہوتی
سیف سحری
کبھی روٹھ جانا کبھی مان جانا وہ نخرے پہ نخرے کیے جا رہے ہیں
بتاﺅ کریں کیا اس زندگی کا مر مر کے ہم جیے جا رہے ہیں
افضل منگلوری
تو زیادہ سے زیادہ اور کیا ہو جائے گا
ظلم بن کے حد سے گزرے گا فنا ہو جائے گا
ماسٹر نثار احمد
جب سے میں حادثات کی تصویر بن گئی
ہر ایک کی نگاہ کی تنویر بن گئی
فرزانہ غزل
بد لے گا ایک روز رویہ بھی یار کا
موسم خزاں کے بعد ہے لازم بہار کا
حشمت بھاردواج
حیات دی ہے تو پھر موت بھی خدا دے گا
اس نے درد دیا ہے وہی دوا دے گا
شارق اعزاز عباسی
اک زندگی ملی وہ بھی ملی ادھار
کیسے اتاروں میں اسے کندھے پہ ہے جو بھار
وفا اعظمی
چشمہ اس در سے کبھی دل نہ ہٹایا ہم نے
تیری چوکھٹ پہ ہی ہر سانس گزارا کرتے
چشمہ فاروقی
عمر ساری گزر گئی یوں ہی
میری ہستی بکھر گئی یوں ہی
طلعت سروہہ
ذرا نزدیک جانا چا ہیے تھا
اسے کچھ اور پانا چا ہیے تھا
عطاءالرحمن
فرق پڑتا نہیں سورج کے نکل آنے سے
صبح تو ہوگی تیری نیند اتر جانے سے
شکیل سونی پتی
میں گردش میں ہوں سفر کر رہی ہوں
خزاں میں سنہرا سا رنگ بھر رہی ہوں
سرتاج سبینہ
سمجھنا پچھلے جنموں کا کوئی سمبندھ ہے اس سے
جو پہلی بار خوشبو کسی انجان سے آے
ارون شرما صاحب آبادی
چپا چپا کونا کونا شہر کا ہم نے چھانا ہے
وقت نے کروٹ بدلی اب،پر موڑ یہاں انجانا ہے
رازی ابوزر
اس موقع پر شہلا احمد، کیلاش سمیر وششٹھ دہلوی،رچنا نرمل،سورج پال سنگھ ادنیٰ، امثل فواز،عارف دہلو ی، یامین منظر، محبوب عالم وارثی ،نعیم ہندوستانی،سدھارتھ آغا،نیلم باورامن، سریندر سفر، گولڈی غضب ، سنتوش سمپرتی،شاداں احسن، ترون جین نے اشعار پیش کئے۔ شری کانت کوہلی،ابو نعمان، کمال الدین،انور خاںغوری، محمدادیب، خطاطی کے استاد شمیم احمد اور طلبا نے شرکت کی۔ آخر میں غا لب اکیڈمی کے سکریٹری نے شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ بروز ہفتہ18 جولائی کواردو ہندی کے پہلے شاعر امیر خسرو کے عنوان سے لیکچر زکا انعقاد کیا جائے گا۔جس میںپروفیسر اختر الواسع اور پرو فیسر جانکی پرساد شرما لیکچر دیں گے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *