Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

دہلی میں بی جے پی کے اشارے پر پری-ایس آئی آر کی آڑ میں 14لاکھ ووٹ کاٹ دیے گئے

ایس آئی آر کے نام پر کھیل شروع ،غریب علاقوں میں ہر گھر تک مردم شماری فارم تک نہیں پہنچا

غلط سرکاری اعداد شمار پیش کر 100فیصد فارم تقسیم کرنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے :سوربھ بھاردواج
پہلے الیکشن کمیشن کی مدد سے مغربی بنگال میں دھاندلی کی ،دہلی میں اس سے بھی بڑھ کرکر رہی ہے

نئی دہلی، 17جولائی(میرا وطن نیوز)
عام آدمی پارٹی نے خصوصی نظرثانی (SIR)کی کارروائی کے دوران غریب اور مہاجر ووٹروں کے نام جان بوجھ کر ووٹر فہرست سے خارج کیے جانے پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ آپ نے کہا کہ تین سطحو ں پر بڑے پیمانے پر دھاندلی کی جا رہی ہے۔
جمعہ کو پارٹی دفتر میں پریس کانفرنس میں ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے کا کہ ان میں پہلی، بی جے پی کے اشا رے پر الیکشن کمیشن نے پری-ایس آئی آر کے نام پر ہی 14لاکھ ووٹ کاٹ دیے، جس کے باعث یہ افراد اب ایس آئی آر کے عمل میں شامل ہی نہیں ہو سکیں گے۔ دوسری، غریب بستیوں میں ہر گھر تک مردم شماری فارم نہیں پہنچایا گیا، اس کے باوجود سرکاری اعداد و شمار میں 100فیصد فارم تقسیم ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ تیسری، جن لوگوں کی جھگیاں منہدم کر دی گئیں اور جنہیں سرکار نے متبادل مکانات دیے ہیں، انہیں بھی بی ایل او فارم فراہم نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی الیکشن کمیشن کے تعاون سے مغربی بنگال میں جو دھاندلی کر چکی ہے، دہلی میں اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ گئی ہے۔
اس موقع پر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ ایس آئی آر کے پورے عمل میں خامیوں کی بھرمار ہے اور یہ غریبوں اور پوروانچل سے تعلق رکھنے والے ووٹروں کے نام کاٹنے کا ایک منظم منصوبہ معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں اور لاکھوں لوگوں کی جھگیاں گرا کر انہیں بے گھر کر دیا گیا، اور اب انہیں کہا جا رہا ہے کہ وہ ووٹر ہی نہیں رہے، جبکہ وہ کرائے کے مکان یا سرکارکی جانب سے فراہم کردہ فلیٹوں میں رہ رہے ہیں۔ نئے ووٹر کے طور پر اندراج بھی ان کے لیے انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے، کیونکہ نئے فارم میں پرانے ایس آئی آر کی تفصیلات مانگی جا رہی ہیں جو ان کے پاس موجود نہیں ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے بنگال اور بہار میں جو دھاندلی کی، دہلی میں اس سے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر کی جا رہی ہے۔اس موقع پر براڑی سے رکن اسمبلی سنجیو جھا نے کہا کہ ایس آئی آر کے نام پر ایک سازش رچی جا رہی ہے، جس کے ذریعے لوگوں سے ان کا حقِ رائے دہی چھینا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مخصوص طبقوں کے ووٹ کاٹنے کی منظم کوشش ہے، کیونکہ پری-ایس آئی آر جون کے مہینے میں کرائی گئی، جب گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی ہیں اور بہار، اتر پردیش سمیت دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے مہاجر مزدور اپنے آبائی گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ ایسے میں جون میں یہ سروے کیسے مکمل ہوا اور اسی بنیاد پر 14لاکھ ووٹ کیسے کاٹ دیے گئے؟

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *