Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

عوامی اعتماد جمہوری اداروں کی سب سے بڑی طاقت ہے: لوک سبھا اسپیکر

نو منتخب عوامی نمائندوں کو معاشرے کے آخری فرد کی آواز بننا چاہئے

مغربی بنگال کو ایک بار پھر قوم کی رہنمائی کی ذمہ داری نبھانی چاہیے
گور نرآر این روی کے خطبے سے بنگال اسمبلی کا دو روزہ اورینٹیشن پروگرام اختتام پذیر

کولکتہ، 4 جولائی(میرا وطن نیوز )
لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے منگل کو کہا کہ بامعنی جمہوری بات چیت مو ¿ثر قانون سازی کے کام کی بنیا دی بنیاد ہے۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ قیادت نعرے بازی، رکاوٹوں یا قانون سازی کے تعطل کے بجائے معقول غور و فکر، حقائق اور تعمیری خیالات کے ذریعے بنائی جاتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقننہ بحث، غور و خوض اور حل تلاش کرنے کا ایک پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے اراکین پر زو ر دیا کہ وہ پارلیمانی مکالمے کے معیار کو بہتر بنائیں اور ایوان کے مباحثوں کو عوامی مفاد کے مسائل کے حل اور ریاست کی ترقی سے جوڑیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری اداروں کی مضبوطی بامعنی بات چیت، باہمی احترام اور عوامی فلاح و بہبود کے مشترکہ عزم میں مضمر ہے۔
اوم برلا نے ان خیالات کا اظہار 18ویں مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کے ارکان کے لیے دو روزہ اورینٹیشن پروگرام کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس کا اہتمام لوک سبھا سکریٹر یٹ کے پارلیمانی ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسیز (پرائڈ) نے مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کے تعاون سے کیا تھا۔ مغربی بنگال کے گورنر آر این روی نے اس تقریب میں اختتا می خطا ب کیا۔
اوبرلا نے اسمبلی کے اراکین پر زور دیا کہ وہ معاشرے کے آخری فرد کی آواز بنیں اور لوگوں کی امنگوں ، توقعات اور خوابوں کو پورا کرنے کے لیے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کی سب سے بڑی طاقت عوام کا ان پر اعتماد ہے۔ منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایوان میں عوام کے مسائل، چیلنجز اور امنگوں کو موثر انداز میں اٹھائیں اور جمہوری اداروں کے ذریعے ان کے حل کے لیے کوشش کریں۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اراکین مغربی بنگال کے عوام کی طرف سے وقف عوامی خدمت اور ذمہ دارانہ طرز عمل کے ذریعے ان پر کئے گئے اعتماد پر پورا اتریں گے۔
دو روزہ پروگرام میں اراکین کی پرجوش شرکت کی تعریف کرتے ہوئے اوم برلا نے مشاہدہ کیا کہ سیکھنے، تجربات کا اشتراک، اور خیالات کا تبادلہ عوامی زندگی میں ایک مسلسل عمل ہے۔اورینٹیشن پروگرام کے دوران، قانون سازی کے کام کاج، پارلیمانی روایات اور آداب، ایگزیکٹو احتساب، کمیٹی کا نظام، قانو ن سازی کا عمل، مالیاتی اور بجٹ کے طریقہ کار، پارلیمانی مراعات اور اخلاقیات، اور ڈیجیٹل قانون سازی کے اقدامات جیسے موضوعات پر گہرائی سے سیشن منعقد کیے گئے۔ ملک بھر سے معزز پریزا ئیڈنگ افسران، اراکین پارلیمنٹ اور پارلیمانی ماہرین نے ان اجلاسوں میں رہنمائی کی۔
اختتامی اجلاس میں ہریانہ کے گورنر پروفیسر عاصم کمار گھوش ،مغربی بنگال اسمبلی کے اسپیکر رتیندرا بوس، مغربی بنگال سرکارکے وزرائ، اراکین پارلیمنٹ، مغربی بنگال اسمبلی کے ارکان اور بہت سے دوسرے معزز مہمان نے شرکت کی۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *