
نئی دہلی، 18جون(میرا وطن نیوز )
عام آدمی پارٹی نے نیٹ پیپر لیک کو روکنے کے لیے پہلے بھارتی فضائیہ کے طیاروں کے استعمال اور اب ٹیلی گرام پر پابندی عائد کرنے کے سرکاری فیصلے پر مرکزی سرکار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ آپ کے قومی کنوینر اروند کجریوال نے کہا کہ پیپر لیک روکنے کے لیے پہلے بھارتی فضائیہ کے طیارے استعما ل کرنے کی بات کی گئی اور اب ٹیلی گرام کو بند کر دیا گیا ہے۔ یہ سرکارمکمل طور پر ایک کامیڈی سرکس بن چکی ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے پیپر لیک کبھی نہیں رکیں گے۔
اس موقع پر اروند کجریوال نے سوال اٹھایا کہ کیا پیپر لیک کے کاروبار سے حاصل ہونے والے پیسوں کا استعمال اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کو خریدنے کے لیے کیا جا رہا ہے؟کیونکہ سرکارکی نیت ہی پیپر لیک روکنے کی نہیں ہے۔ اگر اس پورے نظام کو بدلنا ہے تو عوام کو سڑکوں پر آنا ہوگا۔
جمعرات کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے اروند کجریوال نے کہا کہ سرکارنے پیپر لیک روکنے کے لیے ٹیلی گرام پر پابندی لگا دی۔ کیا یہ سن کر لوگوں کو ہنسی نہیں آتی؟ پہلے کہا گیا کہ امتحانی پرچوں کو بھارتی فضائیہ کے طیاروں کے ذریعے منتقل کیا جائے گا، اور اب کہا جا رہا ہے کہ ٹیلی گرام بند کر دیا گیا ہے۔ کیا اس سے پیپر لیک رک جائیں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ پیپر لیک روکنا ہی نہیں چاہتے، ان کی نیت ہی خراب ہے۔
اروند کجریوال نے یاد دلایا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ پیپر لیک کا دھندا اربوں اور کھربوں روپے کا ہے اور اس کا پیسہ اوپر تک پہنچتا ہے۔اتنے سارے اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی جو خریدے جا رہے ہیں،آخر انہیں خریدنے کے لیے پیسہ کہاں سے آ رہا ہے؟ یہ نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے وا لے پیپر لیک کے کاروبار کا ہی پیسہ ہے۔ ابھی انہوں نے ترنمول کانگریس کے کئی اراکینِ پارلیمنٹ اور اسمبلی کو خریدا۔ اب خبریں آ رہی ہیں کہ مہاراشٹر میں بھی بڑے پیمانے پر خرید و فروخت جاری ہے۔ ایک ایک رکنِ پارلیمنٹ کو پچاس پچاس کروڑ روپے دیے جا رہے ہیں، یہ سب کچھ یونہی نہیں ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پیپر لیک کا یہ دھندا بند ہو جائے تو پھر اراکینِ پارلیمنٹ اور اسمبلی کو خریدنے کے لیے پیسہ کہاں سے آئے گا؟ جب تک عوام متحد ہو کر سڑکوں پر نہیں آئیں گے، تب تک پیپر لیک کا سلسلہ نہیں رکے گا۔ اس پورے نظام کو بدلنا ہوگا۔
No Comments: