
مسلم پرسنل لاءبورڈ اور ملی تنظیموں کے رہنماﺅں کا موقف
نئی دہلی، 27اپریل(میرا وطن نیوز)
ہندوستان کے آئین میں دفعہ 25 اور 26 کے تحت مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے، جبکہ دفعہ 30 کے تحت مذہبی اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور انہیں چلانے کا مکمل حق حاصل ہے۔ آئین میں دی گئی مدارس کی آزادی کو برقرار رکھنا پوری ملت اسلامیہ کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں تمام ملی تنظیمیں آپ کے ساتھ ہیں اور مدارس کا بھر پور ممکنہ تعاون کریں گی، اس معاملے میں کچھ مقدمات اتر اکھنڈ ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہیں اور ضرورت پڑنے پر سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا جائے گا۔ ا ن تمام امور پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے ذمے داروں کے ساتھ مختلف ملی تنظیمیوں سے وابستہ سر برہان نے بھی اتفاق کیا ہے ۔
آل انڈیا پرسنل لاءبورڈ کے ذمے داروں اور ملی تنظیموں کے رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وطن عزیز میں دینی مدارس ہمارے مذہبی اقدار کے تحفظ کا اہم ترین ذریعہ ہیں ا و ر آئین ہند نے ا ن حقوق کو بنیادی حقوق (Fundamental Rights) کے طور پر تسلیم کیا ہے ،اس لیے ان کی حفاظت ملت اسلامیہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے، مدارس نے ملک کی آزادی اور تر قی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور آج بھی کر رہے ہیں۔ لیکن افسوس کہ نفرت انگیز سیاست کے ذریعہ اقتدار حاصل کرنے والے بعض عناصر مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو ان کی مذہبی شناخت سے محروم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان ملی رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ اسی سلسلے کی ایک کڑی مدارس اسلامیہ کو نقصان پہنچانے کی سازش ہے، گزشتہ دنوں اتراکھنڈ سرکار ایک بل لے کر آئی ہے ، جس کے تحت تمام مدارس کو سرکاری تعلیمی بورڈ میں رجسٹر کرانا لاز می قرار دیا جا رہا ہے اور آئندہ تعلیمی بورڈ یہ بھی طے کرے گا کہ مذہب سے متعلق کیا تعلیم دی جائے اور کیا نہیں، نیز نصاب بھی وہی ہوگا ، جو سرکار کی طرف سے مقرر کیا جائے گا۔ہمارا ماننا ہے کہ یہ قانون آئین میں دی گئی ضمانتوں اور بنیادی حقوق کے سراسر خلاف ہے؛ بلکہ ایک سیکولر ریاست سے جو توقع کی جاتی ہے، اس سے بھی متصادم ہے؛ اس لیے اس کی مخالفت کرنا اور آئین میں دی گئی مدارس کی آز ادی کو برقرار رکھنا پوری ملت اسلامیہ کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں تمام ملی تنظیمیں آپ کے ساتھ ہیں اور مدارس کا بھر پور ممکنہ تعاون کریں گی۔
ان تمام امور پر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی (صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ) ، حضرت مولانا سید ارشد مدنی (صدر جمعیة علماءہند )، مولاناسید محمود اسعد مدنی (صدر جمعیة علماءہند ) ،مولانا عبید اللہ خان اعظمی (صدر مجلس اتحاد ملت)، سید سعادت اللہ حسینی (امیر جماعت اسلامی ہند ) ، حضرت مولانا محمد فضل الرحیم مجددی (جنرل سکریٹری بورڈ )، مولاناسید بلال عبدالحی حسنی ندوی (سکریٹری بورڈ ) او ر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی (صدر جمعیت اہل حدیث ہند) نے اتفاق ظاہر کیا ہے۔
No Comments: