Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

جسٹس سورن کانتا شرما سے انصاف کی امید ختم ہوچکی :کجریوال

میں نہ ان کے سامنے پیش ہوں گا اور نہ ہی کوئی دلیل دوں گا

نئی دہلی، 27اپریل(میرا وطن نیوز )
عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کجریوال نے جج سورن کانتا شرما کی عدالت میں چل رہے اپنے مقد مے میں نہ پیش ہونے اور نہ ہی کوئی دلیل دینے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے پیر کو یہ اطلاع د یتے ہوئے کہا کہ جسٹس سورن کانتا شرما سے انصاف ملنے کی میری امید ختم ہو چکی ہے۔ اس لیے اپنی ضمیر کی آواز سن کر، گاندھی جی کے اصولوں کو مانتے ہوئے اور ستیہ گرہ کی روح کے ساتھ، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اس کیس میں ان کے سامنے پیش نہیں ہوں گا اور نہ ہی کوئی دلیل پیش کروں گا۔ اس سلسلے میں میں نے انہیں ایک خط لکھ کر بھی مطلع کر دیا ہے۔
اروند کجریوال نے کہا کہ میں نے مفادات کے ٹکرا ¶ کے سبب جج سوارنا کانتا شرما سے درخواست کی تھی کہ وہ میرے کیس سے خود کو الگ کر لیں، لیکن انہوں نے خود ہی اس کیس کو سننے کا فیصلہ کیا۔ اس کیس میں جسٹس سورن کانتا شرما جو بھی فیصلہ سنائیں گی، اس پر میں اپنے قانونی حقوق استعمال کرنے کے لیے آزاد ہوں۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ مجھے عدلیہ پر مکمل بھروسہ ہے اور میں اس کا احترام کرتا ہوں، کیونکہ جب میرے خلاف سازشیں ہوئیں تو عدلیہ نے ہی مجھے بے قصور قرار دے کر انصا ف دیا۔
اروند کجریوال نے کہا کہ زندگی میں کئی بار ایسے مواقع آتے ہیں جب جیت یا ہار اہم نہیں رہتی بلکہ صحیح اور غلط کا سوال بڑا ہو جاتا ہے۔ ایسے وقت میں یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ ہم مشکل راستہ اختیار کریں یا آسا ن راستہ۔ آج میں بھی ایسے ہی ایک موڑ پر کھڑا ہوں۔ سب جانتے ہیں کہ مجھے ایک جھوٹے کیس میں پھنسایا گیا،مجھے جیل بھیجا گیا، ایک منتخب سرکار کو غلط طریقے سے گرا دیا گیا۔ ہمیں کئی مہینوں تک جیل میں رکھا گیا، لیکن آخرکار سچ کی جیت ہوئی۔ 27فروری کو عدالت نے مجھے مکمل طور پر بے قصور قرار دیا اور کہا کہ کجریوال نے کوئی بدعنوانی نہیں کی۔ا
نہوں نے کہا کہ عدالت نے سی بی آئی کی تفتیش پر بھی سوال اٹھائے اور تفتیشی افسر کے خلاف کارروائی کے احکامات دیے۔ لیکن سچ کا راستہ آسان نہیں ہوتا۔ سی بی آئی نے فوراً اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا اور یہ کیس جسٹس سوارنا کانتا شرما کے سامنے آ گیا۔ تب میرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا مجھے ان کے سامنے انصاف ملے گا؟ کجریوال نے کہا کہ اس کے دو بڑے اسباب ہیں۔ پہلا یہ کہ جس نظریے کی سرکار نے مجھے جھوٹے الزامات میں جیل بھیجا، جج صاحبہ خود مان چکی ہیں کہ وہ اسی نظریے سے وابستہ تنظیم اکھل بھارتیہ ادھیوکتا پریشد کے پروگراموں میں شرکت کرتی رہی ہیں۔ ہم اور آپ اس نظریے کے سخت مخالف ہیں، ایسے میں کیا مجھے ان کے سامنے انصاف مل سکتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ دوسرا سبب مفادات کا ٹکرا ¶ ہے۔ میرے خلاف عدالت میں مرکزی سرکار کی سی بی آئی ہے اور جسٹس سوارنا کانتا شرما کے دونوں بچے مرکزی حکومت کے وکلاءکے پینل میں شامل ہیں۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا ان وکلاءکو کیس دیتے ہیں۔ تقریباً 700وکلاءکے اس پینل میں ان کے بیٹے کو سب سے زیادہ کیس ملنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ 2023سے 2025کے درمیان انہیں تقریباً 5904کیس ملے، جس سے انہیں کروڑوں روپے کی فیس ملی۔ ایسے میں یہ فطری سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جج صاحبہ اس وکیل کے خلاف فیصلہ دے سکیں گی جس پر ان کے بچوں کے مستقبل اور آمدنی کا دارومدار ہے؟
اروند کجریوال نے کہا کہ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مجھے عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے اور میں اس کا بہت احترام کرتا ہوں۔ جب میرے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے تو اسی عدلیہ نے مجھے ضمانت دی او ر بعد میں بے قصور بھی قرار دیا۔ گزشتہ 75برسوں میں جب بھی ملک پر کوئی آنچ آئی، عدلیہ نے ملک اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں جسٹس سورن کانتا شرما کا بھی بہت احترام کرتا ہوں اور مجھے ان سے یا ان کے خاندان سے کوئی ذاتی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن انصاف کا ایک اہم اصول ہے کہ انصاف نہ صرف ہونا چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ اسی لیے میں نے ان سے مودبانہ درخواست کی تھی کہ وہ مفادات کے ٹکرا ¶ کی بنیاد پر اس کیس سے خود کو الگ کر لیں، لیکن انہوں نے میری درخواست مسترد کر دی۔
کجریوال نے کہا کہ میرے سامنے سب سے آسان راستہ یہ تھا کہ میں ان کے حکم کو مان لیتا اور ایک بڑے وکیل کے ذریعے اپنا مقدمہ لڑتا، لیکن یہ مسئلہ اب صرف میرے کیس کا نہیں بلکہ عوام کے عدالتی نظام پر اعتماد کا ہے۔ ایسے مواقع پر باپو نے ہمیں ستیہ گرہ کا راستہ دکھایا ہے۔ میں نے بھی اسی راستے پر چلتے ہوئے پہلے بات چیت کی، اپنی بات نہایت شائستگی سے رکھی، لیکن جب کوئی حل نہ نکلا تو اب میں ستیہ گرہ کے جذبے کے تحت یہ قدم اٹھا رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ اب میں اس کیس میں نہ تو خود عدا لت میں پیش ہوں گا اور نہ ہی میری طرف سے کوئی وکیل پیش ہوگا۔ تاہم جسٹس سورن کانتا شرما جو بھی فیصلہ دیں گی، اس کے خلاف میں اپنے قانونی حقوق، جیسے سپریم کورٹ سے رجوع کرنا، استعمال کرنے کے لیے آزاد ہوں۔
اروند کجریوال نے کہا کہ میں نے اس فیصلے سے متعلق ایک خط لکھ کر جج صاحبہ کو مطلع بھی کر دیا ہے۔ میرا ان سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں ہے۔ اگر مستقبل میں کوئی ایسا کیس ان کے سامنے آئے جس میں میر ے خلاف بی جے پی، مرکزی سرکار یا تشار مہتا شامل نہ ہوں تو میں ضرور پیش ہوں گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ جانے کی تیاری جاری ہے کیونکہ یہ معاملہ نہایت حساس ہے۔انہو ں نے کہا کہ میں یہ قدم نہ کسی غرور، بغاوت یا مخالفت کے جذبے سے اٹھا رہا ہوں اور نہ ہی میرا مقصد عدالتی نظام کو چیلنج کرنا یا اس کی توہین کرنا ہے۔ میرا مقصد صرف یہ ہے کہ ملک کے عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہو اور لوگوں میں یہ یقین پیدا ہو کہ ضرورت پڑنے پر انہیں انصاف ضرور ملے گا۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *