Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

ترکمان گیٹ روڈ پر چل رہا ہے من مانی ٹریفک نظام

بغیر حکم سڑک کو یکطرفہ بنا دیا گیا، عوام پریشان ہے

نہ ٹریفک پولیس کا نوٹیفکیشن، نہ عوامی اطلاع ،انتظامیہ پر سوالات
ایل جی اور پولیس کمشنر کو شکایت ارسال کی گئی ہیں :محمد شاہد گنگوہی

نئی دہلی ،27اپریل (میرا وطن نیوز )
راجدھانی میں ٹریفک جام ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ہر ایک آمدرفت کی اندورونی سڑک ہو یا پھر بڑے مارگ ہوں ،دونوں ہی راستوں پرگاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا سکتی ہیں ۔حالانکہ بہت سے مقامات پر ٹریفک کو معمول بنانے کے لئے انتظامات بھی کئے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود ٹریفک جام کی صورتحال قابو سے باہر ہے ۔دلچسپ یہ ہے کہ زیادہ تر اندورنی سڑکوں پر انکروچمنٹ ٹریفک جام کی وجہ بتائی جاتی ہے مگر زیادہ تر مقامات پر ٹریفک جام کے لئے انتظامیہ کو ذمے دار ٹھہریا جاتا ہے ،کیونکہ
متعلقہ محکمہ سڑکوں پر انکروچمنٹ کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتے ہیں ۔کئی جگہ پر ٹریفک پولیس یا پھر لوکل پولیس اپنی سہولت کے لئے بیریکٹنگ کرتی ہے اور اس کی تازہ مثال آصف علی روڈ پر دیکھی جاسکتی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ پرانے دہلی کے تاریخی ترکمان گیٹ سے ذاکر حسین کالج جانے والی چمن لال مارگ، جو برسوں سے دو طرفہ ٹریفک کے لیے استعمال ہو رہی تھی، اچانک تنازع کا شکار ہو گئی ہے۔ دریا گنج تھا نہ انتظامیہ نے بغیر کسی سرکاری حکم یا ٹریفک پولیس کی منظوری کے اس سڑک کو یکطرفہ کر دیا ہے۔مقامی افراد کے مطابق اس سڑک پر ہمیشہ دو طرفہ ٹریفک چلتا رہا ہے اور ذاکر حسین کالج کے قریب لگا ٹریفک سگنل بھی اسی نظام کے تحت کام کر رہا تھا۔ مگر حالیہ دنوں میں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اسے صرف ایک سمت (ذاکر حسین کالج سے ترکمان گیٹ کی طرف) کر دیا گیا۔اس اچانک فیصلے سے عوام ، دکاندارو ں اور روزانہ سفر کرنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ لوگوں کو لمبا راستہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے جس سے وقت اور ایندھن دونوں ضائع ہو رہے ہیں۔
اس حساس مدعے پر سوشل اینڈ آر ٹی آئی ایکٹوسٹ محمد شاہد گنگوہی نے اپنی شدید رد عمل ظاہر کرتے ہو ئے کہاگہ اچانک بیریکٹنگ کئے جانے سے عام راہ گیروں کے ساتھ مقامی لوگ خاصہ پریشان ہیں او ر انہیں ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے اپنے ہدف تک پہنچنے میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے اس معاملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے ایل جی ترنجیت سنگھ سندھو اور پولیس کمشنر ستیش گولچہا کو شکا یت ار سال کی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ بغیر کسی قانونی حکم اور عوامی اطلاع کے یہ فیصلہ کیسے لیا گیا ؟ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر کوئی سرکاری حکم موجود نہیں تو فوری طور پر دو طرفہ ٹریفک بحال کیا جائے اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *