Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

یو ایس ڈیل کے خلاف یوتھ کانگریس کارکنان کا احتجاج ملک گیر سطح پر جاری رہے گا:بھانو چب

انڈیا یوتھ فرنٹ نے انڈین یوتھ کانگریس کے موقف کی حمایت کی

ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی جیسی صورتحال پر تشویش کاکیا اظہار

نئی دہلی ،3 مارچ(میرا وطن)
انڈیا یوتھ فرنٹ نے انڈین یوتھ کانگریس اور اس کے قومی صدر ادے بھانو چِب اور ملک کی موجودہ صو رتحال کے خلاف آواز اٹھانے والے تمام نوجوان لیڈروں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ پریس کا نفرنس کو این سی پی (ایس پی) کے فہد احمد، مسلم یوتھ لیگ کے آصف جی، آل انڈیا یوتھ فیڈریشن کے ہریش، آپ کے انوراگ نگم اور انڈین یوتھ کانگریس کی قومی جنرل سکریٹری سربھی دویدی نے خطاب کیا۔
اس موقع پر سماج وادی پارٹی کے نوجوان لیڈر فہد جی نے کہا کہ انڈین نیشنل کانگریس اور یوتھ کانگر یس کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی ملک کی تاریخ۔ ملک میں جب بھی ناانصافی یا غلط کام ہوا ہے ان تنظیمو ں نے جمہوری طریقے سے اپنا احتجاج درج کرایا ہے۔ تاہم، موجودہ حکومت نے مبینہ طور پر جنتر منتر سمیت تمام نامزد احتجاجی مقامات کو بند کر دیا ہے، جس سے جمہوری حقوق کو دبانے کے بارے میں شدید تحفظات ہیں۔
فہد نے سوال کیا کہ اگر احتجاجی مقامات کو منظم طریقے سے بند کر دیا گیا تو شہری اپنے اختلاف کا اظہار کرنے کہاں جائیں گے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ احتجاج جمہوریت کی مضبوطی اور دنیا کے ہر جمہوری ملک کا بنیادی حق ہے۔ پرامن احتجاج کو روکنا اور میڈیا تک رسائی کو محدود کرنا ملک میں غیر اعلانیہ ہنگامی حالت کی عکاسی کرتا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی ’سمجھوتہ‘ کر رہے ہیں، لیکن بھارت کبھی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ قوم افراد سے بڑی ہے اور اس کا وقار سب سے زیادہ ہے۔ دولت مشترکہ کھیلوں کے دوران حزب اختلاف کی جماعتوں کے احتجاج بھی ہوئے تھے، جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اختلاف رائے جمہوری روایت کا ایک لازمی حصہ رہا ہے۔
دریں اثنا، عدالت نے یوتھ کانگریس کے نو ارکان کو ضمانت دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اس کیس میں سیاسی اختلاف شامل ہے۔ عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ احتجاج عوامی تقریب کے دوران اظہار خیال کی ایک شکل تھی اور یہ کہ ٹی شرٹس میں لیڈر کی تصویر تھی، نہ کہ اشتعال انگیز یا غیر قانونی نعرہ۔اس کا جواب دیتے ہوئے جنرل سکریٹری سربھی ترویدی نے کہا، ’عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ یہ سیاسی اختلا ف اور جمہوری اظہار کا معاملہ ہے، اگر کسی لیڈر کی تصویر والی ٹی شرٹ پہننا جرم سمجھا جاتا ہے، تو کیا اب وزیر اعظم ماضی میں اپنے جارحانہ بیانات پر معافی مانگیں گے؟انڈیا یوتھ فرنٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پرامن احتجاج ایک آئینی حق ہے اور وہ اس جمہوری جدوجہد میں انڈین یوتھ کانگریس کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گی۔. ادھر تہاڑ جیل سے ضمانت پر رہا ہو کر یوتھ کانگریس دفتر پہنچ کر انڈین یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو جب نے نامہ نگاروں سے کہا کہ یو ایس ٹریڈ ڈیل ملک کے نوجوانوں کسانوں کے ساتھ دھوکہ ہے ، یہ دباؤ میں کی گئی ڈیل ہے ، آپ ہمیں جیلوں میں ڈال سکتے ہو، خاندانوں کو پریشان کر سکتے ہو،ہمیں ملک غدار بھی بتا سکتے ہو، لیکن ہمیں ڈرا نہیں سکتے کیونکہ ہم راہل گاندھی کے سپاہی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر وزیراعظم کو لگتا ہے کہ شیملیس سرکار کے خلاف ہمارا شرٹلیس مظاہرہ یہاں ختم ہوا ہے ، تو کمپرومائزڈ پی ایم سن لیں، بھارت ورودھی ٹریڈ ڈیل رد ہونے تک یہ احتجاج ملک کے ہر موڑ پر ہوگا یہ سوال ہر روز پوچھا جائے گا ۔

Next Post

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *