Tasawwuf Advertisement 2024

قومی خبریں

خواتین

جامعہ ہمدرد میں تصوف کی اہمیت و ضرورت پر عالمی سیمینار کا انعقاد

مسلم یونیورسٹی ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، دہلی یونیورسٹی ، جامعہ ملیہ اسلامیہ، جامعہ ہمدرد سمیت متعدد اہم تعلیمی اداروں سے وابستہ شخصیات کی شرکت

نئی دہلی: صوفی سینٹر (مرکز مطالعات تصوف) جامعہ ہمدرد اور خانقاہ غوثیہ کے زیر اہتمام و اشتراک ’تصوف کی اصل و معنویت اور عالم گیریت کے دور میں اس کی ضرورت‘ کے عنوان سے ہمدرد یونیورسٹی کے کنونشن سینٹر میں ایک بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی، دہلی یونیورسٹی دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی، جامعہ ہمدرد دہلی سمیت ملک کے متعدد اہم تعلیمی اداروں سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق، اے ایم یو، جے این یو، ڈی یو اور جامعہ کے علاوہ اس سیمینار میں عالیہ یونیورسٹی کولکاتا، دارالہدی اسلامک یونیورسٹی کیرالہ، بنارس ہندو یونیورسٹی بنارس، ذاکر حسین کالج دہلی، جامعہ رضویہ حنفیہ مانک پور پرتاپ گڑھ اور جامعہ المصطفی ککرالہ بدایوں وغیرہ کے پروفیسروں، ڈاکٹروں اور اسکالروں نے بڑی تعداد میں حصہ لے کر تصوف سے متعلق مختلف موضوعات پر مختلف مساوی مجالسِ میں تقریباً 50 تحقیقی مقالات پیش کئے۔
علاوہ ازیں علم انٹرنیشنل یوکے، درگاہ اجمیر شریف، درگاہ نظام الدین دہلی، درگاہ قطب صاحب دہلی، خانقاہ غوثیہ چشتیہ غازی پور، خانقاہ وامقیہ بریلی، خانقاہ اشرفیہ کچھو چھہ، خانقاہ شیخ العالم ردولی بارابنکی، خانقاہ قدیریہ پیلی بھیت، خانقاہ رشیدیہ مین پوری وغیرہ کے مشائخ و سجادگان اور مدارس و مساجد کے علماء کرام نے کثیر تعداد میں شرکت فرمائی۔سیمینار کے افتتاحی اجلاس کا آغاز صبح دس بجے تلاوت قرآن اور نعت پاک سے ہوا۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت شیخ الجامعہ پروفیسر افشار عالم نے کی اور سید ظفر اقبال اشرفی، بانی و صدر علم انٹرنیشنل، یوکے، مہمان خصوصی، سید اسلم میاں وامقی بریلی، الحاج حفیظ اللّہ شریف بنگلور، ڈاکٹر مفتی مکرم احمد دہلی اور پروفیسر اختر الواسع دہلی بطور مہمان اعزازی سیمینار کی زینت رہے۔
ڈاکٹر محمد فضل الرحمن اور ڈاکٹر محمد احمد نعیمی نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔ صدر اجلاس شیخ الجامعہ صاحب نے کہا کہ صوفیاء کرام نے بنا تفریق مذہب و ملت ہمیشہ محبت و اخوت ، امن و آشتی اور خدمت خلق کو فروغ دیا ہے۔ عصر حاضر میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم ان کی تعلیمات کی عملی طور پر تبلیغ و ترویج کریں ۔ مہمان خصوصی سید ظفر اقبال اشرفی نے کہا آ ج عالمگیر سطح پر اس بات کی سخت ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ مشائخ اور صوفیا کو خانقاہوں اور آستانوں سے نکل کر عملی میدان میں آنا چاہیے اور ہندوستانی سماج واقوام میں بقائے باہمی ، اخوت و ہمدردی اور امن و شانتی کی فضا ہموار کرنی چاہیے، کیونکہ آ ج بھی ہندوستان کی ایک بہت بڑی تعداد خانقاہوں و درگاہوں سے وابستہ ہے اور ان کا ایک روحانی اثر ہے۔ سید اسلم میاں وامقی نے کہا کہ جامعہ ہمدرد میں صوفی سینٹر کا قیام لائق مبارک باد عمل ہے جو یقیناً بہت باعث برکت ثابت ہوگا۔ کیونکہ صوفیاء کا اصل مشن گناہ و فساد اور بدی و شر کے خلاف جہاد کرنا ہے ۔ پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ تصوف یا صوفیاء کی تاریخ بہت قدیم ہے کوئی زمانہ ایسا نہیں کہ جو صوفیاء کی خدمات سے خالی ہو۔ الحاج حفیظ اللّہ شریف نے کہا کہ صوفیاء نے ہمیشہ لوگوں کا دکھ درد دور کرنے اور ان کی مشکلات کو حل کرنے کا درس دیا ہے ۔ ڈاکٹر مفتی مکرم احمد نے کہا کہ اللّہ کی ہر ایک مخلوق سے محبت کرنے ، قلب و ذہن کو پاک و صاف رکھنے، غلطی معاف کرنے، حرص و طمع دور کرنے ، توکل علی اللہ کرنے، غصہ و تکبر دور کرنے اور سب سے حسن سلوک سے پیش آنے کا نام تصوف ہے۔
اس موقع پر نمازِ ظہر سے قبل اورنماز ظہر کے بعد کنونشن سینٹر کے ہال نمبر ایک اور دو میں دو دو مساوی تعلیمی نشستیں منعقد ہوئیں ، جن میں تقریباً پچاس تحقیقی مقالات پڑھیے گئے ۔ اور سامعین و سامعات کثیر تعداد میں موجود رہے۔ چار بجے شام سیمینار کا اختتامی اجلاس منعقد ہوا جس میں سید حماد نظامی نے کہا کہ اگر کوئی کانٹے بچھائے تو آپ اس کے بدلے میں پھول بچھاؤ ، اگر کانٹوں کے بدلے کانٹے بچھائے گئے تو ساری دنیا کانٹوں سے بھر جائے گی۔ پروفیسر مسعود انور علوی نے کہا کہ تصوف اور صوفیا کی تعلیمات کو قرآن و حدیث میں احسان کے نام سے متعارف کرایا گیا ہے اور یہی حقیقی اسلام ہے ۔ پروفیسر خواجہ اکرام نے کہا کہ تصوف صرف اسلام کے ساتھ خاص نہیں بلکہ اکثر عالمی مذاہب میں اس کے نقوش پائے جاتے ہیں۔
رجسٹرار جامعہ ہمدرد ڈاکٹر ایم۔ اے سکندر نے کہا کہ صدیوں پرانی ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب صوفیاء کی مرہون منت ہے ، صوفیاء کا تعلق دل سے ہے ، یہ دلوں کی آ لودگی دور کرکے ایک اچھا انسان بناتے ہیں ۔شاہ عارف علی سبو میاں نے فرمایا کہ جامعہ ہمدرد میں صوفی سینٹر کا قیام ایک تاریخی کام ہے۔ میں اس پر جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ مولانا زاہد رضا نے کہا کہ اس طرح کے سیمینارس سے نہ صرف نئ نسل کی فکری، نظریاتی اور عملی آبیاری ہوگی بلکہ ان کے اندر مادی چیلینجیز سے مقابلہ کرنے کا ہنر پیدا ہوگا۔ڈاکٹر افضل مصباحی نے اس موقع پر مختصر انداز میں خانقاہ غوثیہ چشتیہ کی دینی ،تعلیمی اور سماجی خدمات کا خاکہ پیش کیا اور ڈاکٹر محمد فضل الرحمن نے سیمینار کی رپورٹ پیش کی ۔آخر میں بڑے خوش گوار ماحول میں ڈاکٹر محمد احمد نعیمی نے ہدیہ تشکر پیش کیا۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *