Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

ریاستی سرکاریں ’چینی مانجھا‘ پرپابندی کو سختی سے نافذ کریں ،مرکزی سرکار نے دیے احکامات

لوک سبھا میں مدعا اٹھائے جانے کے بعد ریاستی چیف سکریٹریز کو بھیجا گیا خط:بھوپیندر یادو

نئی دہلی،21مئی (میرا وطن نیوز )
مرکزی سرکار نے تمام ریاستوں کے چیف سکریٹریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ’چینی مانجھا‘اور اسی طرح کے دیگر خطرناک دھاگوں کی تیاری، ذخیرہ کرنے، فروخت کرنے اور ان کی خریداری پر پابندی کو نا فذ کرنے کے لیے سخت کارروائی کریں۔مرکزی سرکار نے چینی مانجھا پر پابندی سے متعلق ریاستی سرکار و ں ں کو یہ ایڈوائزری جاری کی جب جنوبی دہلی سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رام ویر سنگھ بدھوڑی نے یہ معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھایا۔
مرکزی وزیر ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی بھوپیندر یادو نے رکن پارلیمنٹ کو ایک خط بھیجا ہے ۔ خط میں انہوں نے کہا کہ، اس سلسلے میں، وزارت نے تمام ریاستوں کے چیف سکریٹریوں کو ہدا یت دی ہے کہ وہ چینی مانجھا کے علاوہ نایلان، مصنوعی اور شیشے سے بنے دھاگوں کی تیاری پر پابندی لگانے کے لیے مناسب اقدامات کریں۔ مزید برآں، مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی ) نے تمام ریاستوں کی آلودگی کنٹرول کمیٹیوں اور آلودگی بورڈوں کو بھی پابندی کو نافذ کرنے میں سختی سے کام لینے کی ہدایت دی ہے۔ مزید برآں عوام الناس میں شعور بیدار کرنے کے لیے ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ یہ بھی شرط رکھی گئی ہے کہ ایسے دھاگوں کی تیاری میں مصروف یونٹس سے سالانہ بنیادوں پر سیلف ڈیکلریشن حاصل کیے جائیں۔
مرکزی وزیر بھوپیندر یادو نے بھی اس سلسلے میں دہلی سرکارکی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کے بار ے میں تفصیلات فراہم کیں۔ انہوں نے کہا کہ 10 جنوری 2017 کو دہلی میں چینی ’مانجھا‘ پر مکمل پا بندی عائد کی گئی تھی اور دہلی پولیس، میونسپل کارپوریشن، محکمہ صحت عامہ اور دہلی آلودگی کنٹرول کمیٹی کو اس سلسلے میں شکایات درج کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔ دہلی سرکار سے ایک بار پھر درخواست کی گئی ہے کہ وہ چینی ’مانجھا‘ کے بارے میں عوامی بیداری بڑھانے کے لیے اقدامات کرے۔
لوک سبھا میں مدعا اٹھاتے ہوئے بدھوڑی نے چینی مانجھا کی مسلسل فروخت پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہو ں نے اس بات پر زور دیا کہ چینی مانجھا پر لگائی گئی پابندی پر سختی سے عمل درآمد ہونا چاہیے۔ اب تک اس پتنگ کی ڈور کی وجہ سے متعدد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اس کے استعمال کے نتائج خاص طور پر گاڑی چلانے والے اور بے آواز پرندوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *