
قربانی کے جانوروں کے تاجروں ، سماجی ہم آہنگی کے تمام پہلوو ¿ں کو متوازن انداز میں دیکھنا ضروری
سوشل اینڈ آرٹی آئی ایکٹوسٹ کا متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ
مینا بازار، جامع مسجد کی بکرا منڈی، نہرو ہِل پارک اور بعض دیگر مقامات پر قربانی کے جانوروں کے تاجروں سے مبینہ طور پر غیر قانونی وصولی اور ناجائز ا ±گاہی کی شکایات سامنے آ رہی ہیں
نئی دہلی،23مئی (میرا وطن نیوز )
دہلی میونسپل کارپوریشن کے ذریعہ پہلے مہاراجہ رنجیت سنگھ مارگ واقع وارڈ نمبر 77 کے نیہرو ہِل پارک کی بکنگ اور بعد ازاں اچانک اس کی منسوخی کو لے کر ایک نیا تنازع سامنے آیا ہے۔ سوشل اینڈ آر ٹی آئی ایکٹوسٹ محمد شاہد گنگوہی نے ایم سی ڈی کے ہارٹیکلچر محکمہ، سٹی ایس پی زون کے بعض افسران کے طر ز عمل پر سوالات اٹھا تے ہوئے اسے عوام کے ساتھ مبینہ دھوکہ دہی اور انتظامی بے ضابطگی کا معا ملہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دستیاب دستاویزات کے مطابق پارک کی بکنگ کے لیے تقریباً 1,07,660 رو پے کی رقم جمع کرائی گئی اور اجازت بھی جاری کی گئی۔ بعد ازاں محکمہ کی جانب سے ایک خط جاری کر تے ہوئے بکنگ منسوخ کر دی گئی اور وجہ یہ بتائی گئی کہ مقام پر اجازت کی شرائط کے برخلاف سرگرمیا ں دیکھی گئیں۔ اس کے بعد سوالات اٹھنے لگے کہ اگر ابتدائی مرحلے میں تمام رسمی کارروائیاں مکمل تھیں تو پھر اچانک بکنگ منسوخ کرنے کی نوبت کیوں آئی۔
محمد شاہد گنگوہی کا کہنا ہے کہ اگر واقعی کسی قسم کی خلاف ورزی ہوئی تھی تو اس کے ثبوت اور مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جانی چاہئیں تاکہ شفافیت برقرار رہے اور عوام کا اعتماد متاثر نہ ہو۔تاہم مختلف سما جی تنظیموں اور مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو کسی مخصوص مذہبی طبقے یا عیدالاضحیٰ کے خلاف مہم کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ عیدالاضحیٰ صرف ایک مذہبی تہوار ہی نہیں بلکہ اس سے ہزارو ں چھوٹے تاجروں، جانوروں کے فروخت کنندگان، ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد، چارہ فروشوں، مزد و روں اور روزگار سے وابستہ خاندانوں کی معیشت بھی جڑی ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت کئی ماہ کی تیاری کے بعد ہوتی ہے اور بہت سے تاجر پورے سال کی کمائی کا بڑا حصہ اسی موسم سے حاصل کرتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی انتظامی فیصلے یا تنازع کا اثر صرف منتظمین پر نہیں بلکہ ان تاجروں اور مزدور طبقے پر بھی پڑ سکتا ہے۔
اسی دوران میڈیا کے ذریعے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مینا بازار، جامع مسجد کی بکرا منڈی، نہرو ہِل پارک اور بعض دیگر مقامات پر قربانی کے جانوروں کے تا جر وں سے مبینہ طور پر غیر قانونی وصولی اور ناجائز ا ±گاہی کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ اگر یہ اطلاعا ت درست ہیں تو یہ معاملہ نہایت سنجیدہ نوعیت کا ہے اور انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس کا نوٹس لے، غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائے اور اگر کوئی عناصر ملوث پائے جائیں تو ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ انتظامی بدعنوانی یا غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی اتنا ہی اہم ہے کہ کسی بھی خبر یا تنازع کو اس انداز میں پیش نہ کیا جائے جس سے کسی مخصوص طبقے یا مذہبی برادری کے خلاف غلط فہمیاں یا نفرت پیدا ہو۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ، منتظمین، تاجروں اور سماجی نمائندوں کے درمیان مسلسل رابطہ اور با ت چیت سے ایسے مسائل کا بہتر حل نکل سکتا ہے، تاکہ قانون کی پاسداری، مذہبی ہم آہنگی، روزگار اور عوامی مفادات — سب کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔فی الحال اس معاملے پر متعلقہ محکمے کے تفصیلی مو ¿ قف کا انتظار کیا جا رہا ہے
No Comments: