
ایس آئی آر میںلاکھوں ووٹ کاٹنے کے بعد بھی بھاجپا کو ٹی ایم سی سے محض 2فیصد زیادہ ووٹ ملے
نئی دہلی، 4مئی(میرا وطن نیوز)
عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکن سنجے سنگھ نے مغربی بنگال میں ٹی ایم سی کی ہار اور بی جے پی کی جیت کے پیچھے رچی گئی مبینہ سازشوں کی طرف ملک کی عوام کی توجہ مبذول کرائی ہے ۔انہو ں نے کہا کہ مغربی بنگال میں جمہوریت کی ہار ہوئی ہے اور بی جے پی کے لوٹ کے نظام کی جیت ہوئی ہے۔ اگر الیکشن کمیشن 27لاکھ لوگوں کو ووٹ دینے سے محروم نہ کرتا تو نتائج بالکل مختلف ہوتے۔انہو ں نے کہا کہ ایس آئی آر کے ذریعہ لاکھوں ووٹ کاٹنے کے باوجود بھی بی جے پی کو ٹی ایم سی سے محض 2 فیصد زیادہ ووٹ ملے ہیں۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ وزیر اعظم مودی اور امت شاہ کے اشارے پر بی جے پی کے ایجنٹ کے طور پر کام کرنے والے الیکشن کمیشن کی جیت ہے۔
اس موقع پرسنجے سنگھ نےپیر کو پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تمل ناڈو میں ایک بڑا سیاسی بدلا ¶ دیکھنے کو ملا، جہاں ٹی وی کے نامی ایک نئی پارٹی اور اس کے لیڈر وجے کو عوام نے زبردست حمایت دی۔ جمہوریت میں کئی بار عوام اس طرح کے فیصلے کرتی ہے اور نئی پارٹیوں کو موقع د یتی ہے، جیسا کہ تمل ناڈو میں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بنگال میں جو کچھ ہوا ہے، اس پر آج بی جے پی جشن منا رہی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی جمہوریت کی جیت ہے؟ کیا یہ عوام کے فیصلے کی جیت ہے؟کیا اس انتخابی نتیجے کے پیچھے کی حقیقت کو نظر انداز کر دینا چاہیے؟ میرے خیال میں ایسا نہیں ہے، ہر چیز کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
No Comments: