
نئی دہلی،9مئی ( میرا وطن نیوز ) ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت پر بات کرتے ہوئے ان کے نمائندے ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نے ایران کلچرل ہائوس نئی دہلی میں آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس کے سابق صدر حکیم امام الدین ذکائی سے ملاقات کے دوران کہا کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز ایک سنگین بہران کا مرکز بن گیا ہے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی صورتِ حال بہت اچھی ہے اور وہاں کے عوام مضبوطی کے ساتھ سڑکوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔یہ لوگ نہ صرف جدوجہد کر رہے ہیں بلکہ فتح کے لیے بھی تیار ہیں۔بہت جلد کامیابی کا جشن منانے کی امید رکھتے ہیں۔حکیم عبدالمجید حکیم الٰہی کے مطابق یہ جنگ خودداری اور آزادی کی علامت بن گئی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ہندوستانی عوام کے ہم شروع سے شکرگذار رہے ہیں ،کیونکہ ایران اور بھارت کا رشتہ ہزاروں سال پرانا ہے۔ بھارت میں فارسی زبان ایران کے راستے آئی تو وہیں بہت سے ثقافتی رشتےایران کے راستے بھارت میں پہنچے ہیں جو آج بھی چلن میں ہیں۔ اس موقع پر حکیم امام الدین ذکائی نے ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف دہلی بلکہ تمام ہندوستان میں جس طریقے سے ایرانی پیغام کو گھر گھر میں پہنچایا جا رہا ہے۔ اس سے لوگوں میں ایک طرح کا نیا جوش اور جذبہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بھارت کے تمام سیکولر ذہنیت رکھنے والے لوگ آج بھی ایران کے ساتھ ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اس لیے وہاں امن اور شانتی قائم ہونی چاہئے۔حکیم امام الدین ذکائی نے ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی کو اپنے ذریعے تحریر کی گئی کتاب ’’کارآمد گھریلو غذائی نسخے‘‘ پیش کی اور بتایا کہ میں نے تقریباً یونانی طریقہ علاج پر 16 کتابیں تصنیف کی ہیں۔انھوں نے مزید کہاکہ میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ یونانی کے ابتدائی دور (مغل دور) میں زیادہ تر کتابیں فارسی اور عربی زبان میں ہی ہوا کرتی تھیں۔ کافی بعد میں ان کا ترجمہ اردو میں کیا گیا۔ اور میں یہ دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ یونانی میں نسخہ نویسی کے لیے استعمال کیا جانے والاطریقہ فارسی کتابوں سے ہی اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔یونانی طریقہ علاج میں فارسی کی کتاب الجامع لمفردات الادویہ والاغذیہ،کتاب العمدہ فی الجراحت جیسی دیگر کتابوں کا اہم رول ہے۔اس موقع پر روزنامہ ’ہمارا سماج‘ کے ایڈیٹر صادق شروانی نے بھی اردو میڈیا کے ذریعہ اس نازک دور میں بھی ایران کی خبروں کو صداقت کے ساتھ شائع کرنے پر زور دیا۔
No Comments: