
نئی دہلی/جودھپور، 20?جونن (میرا وطن نیوز )
راجستھان کے سرحدی اضلاع میں مساجد، مزارات اور دیگر مذہبی مقامات کے انہدام پر جمعیت علما ءہند نے شدید احتجاج کا اظہار کرتے ہوئے اسے آئینی حقوق، مذہبی آزادی اور حق عبادت پر کاری ضر ب قرار دیا ہے۔ چنانچہ پیش آمدہ حالات کا جائزہ لینے کے لیے صدر جمعیت علماءہند مولانا محموداسعد مدنی کی ہدایت پر ہفتے کوایک اعلیٰ سطحی وفدمولانا مفتی محمد عفان منصورپوری صدر جمعیت علماءیوپی کی قیادت میں راجستھان پہنچا۔جودھپور پہنچنے پر وفد کا استقبال جمعیت علماءراجستھان کے جنرل سکریٹر ی مولانا عبدالواحد کھتری و دیگر ذمہ داروں نے کیا، جس کے بعد وفد نے باڑمیر اور دیگر متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔
اس مناسبت سے باڑمیر میں متاثرہ مساجد و مدارس کے ذمہ داران کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں موجودہ صورتِحال اور آئندہ کی قانونی حکمت عملی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ وفد نے مقامی لوگو ں کو یقین دلایا کہ وہ اس مشکل گھڑی میں تنہا نہیں ہیں، بلکہ جمعیت ان کے شانہ بشانہ کھڑ ی ہے۔ مولا نا محمود اسعد مدنی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ جمعیت مذہبی آزادی اور عباد ت گاہوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گی۔
اس موقع پر وفد نے نام نہاد’ آپریشن کلین‘ مہم میںیک طرفہ کارروائی پر سوال اٹھایا اور کہا کہ اگر یہاں عبادت گاہیں اور مذہبی مقامات صدیوں سے ملکی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں تھیں تو اچانک انہیں خطرہ قرار دینا نہ صرف حیران کن بلکہ انصاف اور منطق کے بھی خلاف ہے۔ دوسری طرف یہ کارروائی سپریم کورٹ کے حکم کی صریح خلاف ورزی اور توہین عدالت ہے۔ وفد نے سرکارسے مطالبہ کیا ہے کہ مذہبی مقامات کے خلاف یکطرفہ کارروائیوں کو فوری طور پر روکا جا ئے ، قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے اور تمام شہریوں کے آئینی حقوق کا یکساں تحفظ کیا جائے۔
وفد نے یہ بھی واضح کیا کہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کو مضبوط نہیں کیا جا سکتا۔ آئین کی بالادستی، مساوی انصاف اور تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ ، قومی یکجہتی کی ہی قومی سلامتی حقیقی بنیاد ہے۔وفد نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ اللہ کی جانب خوب متوجہ ہوں ، استغفار و دعاءکا اہتمام کریں ، باجماعت نماز وں کی ادائیگی کے ذریعہ مساجد کو آباد رکھیں اور امن و امان برقرار رکھیں۔
صور تحال سے متعلق تفصیل بتاتے ہوئے قاری محمد امین پوکرن اورمولانا عبدالواحد کھتری نے بتایا کہ جمعیت علماءہند اس سلسلے میں سپریم کورٹ و ہائی کورٹ کے اعلی سطحی وکلاءسے مشورہ جاری ہے اور جلد قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مغربی راجستھان کے اضلاع بیکانیر، پھلودی، جیسلمیر ا ور باڑمیر میں اب تک متعدد مساجد، مزارات اور دیگر مذہبی مقامات کو منہدم کیا جا چکا ہے۔ بیکانیر میں چار مساجد جبکہ پھلودی، جیسلمیر اور باڑمیر میں نو مساجد اور متعدد مزارات زمین دوز کردیے گئے ہیں، نیز کئی دیگر مذہبی مقامات کو نوٹس بھی جاری کیے گئے ہیں۔ ان میں جیسلمیر کے رام گڑھ-تنوٹ بائی پاس روڈ پر واقع تقریباً ڈھائی سو سال قدیم درگاہ حضرت محمود شاہ جیلانی بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ راجستھان کا یہ سرحدی علاقہ پڑوسی ملک سے دو سو کلو میٹر لمبی سرحد سے متصل ہے اور تقسیم ہند سے قبل ہی یہاں بڑی تعداد میں مسلمان آبادہیں۔ صدیوں سے قائم سیکڑوں مساجد، مزارا ت اور دیگر عبادت گاہیں مقامی تاریخ اور تہذیبی ورثے کا حصہ ہیں۔ وفد میںمولانا مفتی سید محمد عفان منصورپوری ،مولانا محمد قاسم نوری قاسمی ، وکیل ایڈ وکیٹ محمد طیب خان ، مفتی محمد حسان ابراہیم قاسمی، مو لا نا حبیب اللہ قاسمی، مولانا محمد الیاس قاسمی، مولانا نور محمد، مولانا ملوک، شیر محمد، مولانا ہاشم، مولانا علی محمد اور دیگر مقامی ذمہ داران بھی موجود تھے۔
No Comments: