Tasawwuf Advertisement 2024

قومی خبریں

خواتین

روینہ ٹنڈن پر تین مسلم خواتین کے ساتھ بدسلوکی کا الزام

حالت نشہ میں حملہ کرنے کی کوشش کا ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل

ممبئی: بالی ووڈ اداکارہ روینہ ٹنڈن پر ہفتہ کی رات ممبئی کے مضافاتی علاقہ میں تین مسلم خواتین کے ساتھ بدسلوکی اور اُن پر حملہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اداکارہ کو مقامی لوگوں کی جانب سے گھیرے جانے اور اُن حملہ کرنے کی کوشش کا ویڈیو بھی سوشل میڈیا پروائرل ہوگیا ہے۔ابتدائی معلومات کے مطابق رضوی کالج کے قریب روینہ کے ڈرائیور پر تیز رفتاری سے گاڑی چلانے اور تین مسلم خواتین کو دھکہ دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے جس وقت کار میں اداکارہ بھی موجود تھیں۔
خواتین نے ڈرائیور کو کار آہستہ چلانے کیلئے کہا تو کار میں سوار اداکارہ روینہ ٹنڈن بھی کار سے باہر آگئیں اور حالت نشہ میں مسلم خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی اور اُن پر حملہ کردیا۔وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ متاثرین اور مقامی عوام نے روینہ ٹنڈن کوگھیرلیا ہے اور پولیس کو فون کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ متاثرہ خواتین میں سے ایک خاتون کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ میری ناک سے خون بہہ رہا ہے۔اداکارہ روینہ نے لوگوں سے یہ بھی کہا کہ وہ اس واقعہ کی ویڈیوریکارڈ نہ کریں۔ جب برہم عوام نے روینہ سے بات چیت کرنے کی کوشش کی تو اداکارہ نے کہاکہ مجھے دھکا مت مارو، مجھے مت مارو۔
بعد میں باندرہ کے رہنے والے ایک شخص محمد نے پورے واقعہ کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اُن کی والدہ ، بہن اور بھانجی رضوی کالج کے پاس سے گزررہے تھے کہ روینہ ٹنڈن کے ڈرائیور نے کار اُن پر چڑھادی۔محمد نے مزید کہا کہ اس حادثہ کے بعد میں جب ڈرائیور سے بات چیت کررہا تھا تب ہی اداکارہ حالت نشہ میں کار سے باہر نکلی اور میری ماں پر حملہ کردیا۔ میری کو سرپرشدید چوٹیں آئیں۔اُنہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ وہ اپنے افراد خاندان کے ساتھ 4 گھنٹے تک پولیس اسٹیشن میں موجود تھے جہاں اُن کی شکایت نہیں لی گئی اور پولیس کہہ رہی ہے کہ وہ اس معاملہ کو پولیس اسٹیشن کے باہر حل کرلیں۔محمد نے مزید کہا کہ ہم باہر اُن کے ساتھ معاملات کو کیوں طئے کریں؟ میری ماں پر حملہ کیا گیا ہے اور میں انصاف کا مطالبہ کرتا ہوں۔ اداکارہ روینہ نے ابھی تک اس واقعہ پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *