Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

سنکٹ موچن مندر مقدمہ، الہ آباد ہائی کورٹ

پھانسی کی سزا کے خلاف داخل مفتی ولی اللہ کی اپیل پر حتمی سماعت شروع

جمعیة علماءمہاراشٹر(ارشد مدنی ) کی قانونی پیروی

الہ آباد، 17 ستمبر (میرا وطن نیوز )
دہشت گردی کے الزامات کے تحت سیشن عدالت سے پھانسی کی سزا پانے والے گذشتہ بیس سال سے جیل میں مقید مفتی ولی اللہ کے مقدمہ کی الہ آباد ہائی کورٹ میں حتمی سماعت شروع ہوچکی ہے۔گذشتہ کل ایڈوکیٹ ایم ایس خان نے دہلی سے الہ آباد جاکر بحث کا آغاز کیا۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اتول سریدھرن اور جسٹس اچل سچدیو اس اہم مقدمہ کی سماعت کررہے ہیں۔ایڈوکیٹ ایم ایس خا ن نے زبانی بحث کے علاوہ عدالت میں تحریری بحث بھی داخل کردی ہے جسے عدالت نے اپنے ریکارڈ پر لے لیا ہے۔دو رکنی بینچ نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کو حکم دیا کہ وہ یکم اکتوبر کو صبح دس بجے بحث کرنے کے لیئے تیار رہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں تحریر کیا ہے کہ عرض گذار مفتی ولی اللہ کے وکیل ایم ایس خان بیرون شہر سے آتے ہیں لہذا متعین کردہ وقت پر بحث شروع کریں۔واضح رہے کہ اترد یش کے تاریخی و مذہبی شہر ورانسی میںواقع مشہور سنکٹ موچن مندر میں2006میں ہوئے دہشت گردانہ واقعہ جس میں 28افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے تھے مقدمہ کے اکلوتے مجرم مفتی ولی اللہ کے مقدمہ کی پیروی صدر جمعیة علماءہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیة علماءمہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی نچلی عدالت سے کررہی ہے ۔
مفتی ولی اللہ پر اترپردیش پولس نے تین مقدمات قائم کیئے تھے جس میں سے اسے دو مقدمات میں نچلی عدالت نے سزا سنائی جبکہ ایک مقدمہ سے اسے بری کردیا گیا تھا۔سیشن کورٹ نے ایک مقدمہ میں پھانسی اور دوسرے مقدمہ میں عمر قید کی سزا سنائی ہے، ددونوں مقدمات میں ملنے والی سزاﺅں کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔
مفتی ولی اللہ کو جمعیة علماءمہاراشٹر قانونی امدا د کمیٹی قانونی امداد فراہم کررہی ہے ، ٹرائل کورٹ میں بھی ملزم کو قانونی امداد فراہم کی گئی تھی ، ٹرائل کورٹ سے پھانسی کی سزا ملنے کے بعد ٹرائل کورٹ کے فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے جس پر ہائی کورٹ میں حتمی سماعت شروع ہوچکی ہے۔ایڈوکیٹ آن ریکارڈ راج رگھونشی نے نچلی عدالت کے فیصلے کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔
اس مقدمہ کا پس منظر یہ ہےکہ 7مارچ 2006 سنکٹ موچن مندر میں شام چھ بجے بم دھماک ہوا تھا جبکہ دوسرا دھماکہ ورانسی ریلوے اسٹیشن پر ہوا تھا جبکہ ایف آئی آر کا اندراج بم دھماکوں کے دوسرے دن یعنی کے8 مارچ کو پولس اسٹیشن لنکا میں سب انسپکٹر سمرجیت کی فریاد پر درج ہوا تھا ۔بم دھماکہ کرنے کے مبینہ الزامات کے تحت مفتی ولی وللہ کو 5 اپریل 2006ءکو لکھنﺅ سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر مندر میں بم دھماکہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تعزیرات ہند کی دفعات 304,302,307,324 اور آتش گیر مادہ کے قانون کی دفعات 3,4,5 کے تحت دو مقدمات قائم کیئے گئے تھے ۔
سال2011ءمیں غازی آباد کی خصوصی عدالت نے دونوں مقدمات کو یکجہ کرکے مقدمہ کی سماعت کا آغاز کیا ،دوران مقدمہ ملزم کے خلاف گواہ دینے کے لیئے استغاثہ نے 48 گواہوں کو عدالت میں پیش کیا تھا ۔6 جون 2022 کو خصوصی سیشن عدالت نے ملزم کو پھانسی کی سزا سنائی تھی جس کے بعد نچلی عدالت کے فیصلہ کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے ۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *