Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

ڈی ٹی سی بس ہڑتال سے راجدھانی کا نظام درہم برہم؛ دن بھرمسافر پھنسے رہے سڑکوں پر

ہڑتال نے لاکھوں مسافروں کی روزمرہ کی آمدورفت کو متاثر کیا

جس کے نتیجے میں شہر بھر کے بس اسٹا پس پر لوگوں کا ہجوم جمع ہو گیا
مہنگائی میں گھر کیسے چلایا جا ئے،احتجاجی ڈرائیوروں کا چھلکا درد

نئی دہلی ،16ستمبر (میرا وطن نیوز )
ڈی ٹی سی بس ڈرائیوروں نے تنخواہ میں اضافے اور دیگر مسائل کے مطالبے پر ہڑتال کر دی ہے، جس سے راجدھانی میں عوامی بس سروس مکمل طور پر ٹھپ ہو گئی ہے۔ بسوں کے ڈپوو ¿ں میں کھڑ ے رہنے کی وجہ سے سڑکیں سنسان نظر آئیں، جس سے عام مسافروں اور مفت سفر کی سہولت سے فائدہ اٹھا نے والی خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ڈی ٹی سی بس ہڑتال: بدھ کوہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ڈی ٹی سی ) کے بس ڈرائیوروں کی جانب سے اچانک ہڑتال کے فیصلے کے بعد راجدھانی میں عوامی ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ کام بند ہونے کی وجہ سے سینکڑوں بسیں سڑکوں پر آنے کے بجائے ڈپوو ¿ں میں ہی کھڑی رہیں۔ اس اچانک ہڑتال نے لاکھوں مسافروں کی روزمرہ کی آمدورفت کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں شہر بھر کے بس اسٹا پس پر لوگوں کا ہجوم جمع ہو گیا۔
سرکار اور انتظامیہ کے خلاف اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ہڑتالی ڈرائیوروں نے نشاندہی کی کہ گزشتہ دو سالوں میں ان کی اجرت میں ایک روپے کا بھی اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ فی الحال، انہیں روزانہ صرف 862 روپے ادا کیے جاتے ہیں۔ ڈرائیوروں کا الزام ہے کہ اس معمولی رقم میں سے بھی انہیں اپنی وردی اور جوتوں کا خرچ خود اٹھانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ مزید برآں، اگر سڑک پر بس کو معمولی نقصان پہنچے یا وہ خراب ہو جائے تو مرمت کا خرچ براہ راست ان کی اپنی جیب سے وصول کیا جاتا ہے۔
احتجاج کرنے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں ایک عام دیہاڑی دار مزدور بھی دن کے تقر یباً 1,000 روپے کما لیتا ہے۔ اس کے برعکس، وہ بھاری گاڑیاں چلاتے ہیں اور درجنوں مسافروں کی زندگیوں کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ ڈرائیور سوال اٹھاتے ہیں کہ ایک ہنرمند ڈرائیور کو اس کی اہلیت کے مطابق مناسب معاوضہ کیوں نہیں دیا جا رہا، خاص طور پر جب لیبر ڈیپارٹمنٹ پہلے ہی ہنر مند اور غیر ہنرمند زمروں کے لیے اجرت کا ڈھانچہ طے کر چکا ہے۔ ان کا بنیادی مطالبہ ‘مساوی کام کے لیے مساوی معاوضہ’ کا نفاذ ہے۔
اس ہڑتال کا سب سے براہ راست اور منفی اثر عام عوام پر پڑا ہے۔ دفاتر، اسکولوں اور کالجوں جانے والے افراد مہنگے آٹو رکشہ، کیب یا ٹرانسپورٹ کے دیگر ذرائع پر انحصار کرنے پر مجبور ہوئے۔ دریں اثنا، وہ خواتین مسافر جو عام طور پر دہلی سرکار کی اسکیم کے تحت بسوں میں مفت سفر کرتی ہیں، انہیں بھی ہڑتا ل کی وجہ سے شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ فی الحال سب کی نظریں سرکار اور ڈی ٹی سی انتظامیہ پر ہیں کہ وہ کب ڈرائیوروں سے بات چیت کریں گے اور اس مسئلے کو حل کریں گے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *