
نئی دہلی،15ستمبر (میرا وطن نیوز )
جماعت اسلامی ہند کے شعبئہ خواتین کے زیر اہتمام ’ڈیجیٹل دور میں زندگی: ٹیکنالوجی اور انسانی اقد ار میں توازن‘کے موضوع پر ایک پینل ڈسکشن کا انعقاد کیا گیا۔ اس مذاکرے میں نفسیات، کونسلنگ ، ڈیجیٹل تبدیلی، تعلیم اور سماجی خدمت کے شعبوں سے وابستہ ماہرین نے شرکت کی۔ مذاکرے میں انسانی تشخص، تعلقات اور اخلاقی اقدار پر ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
اپنے صدارتی خطاب میں جماعت اسلامی ہند کی قومی سکریٹری شائستہ رفعت نے ٹیکنالوجی کے استعما ل کے سلسلے میں معتدل، باشعور اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تعلیم ، صحت، مواصلات اور معلومات تک رسائی کو وسعت دینے میں ٹیکنالوجی کے نمایاں کردار کا اعترا ف کرتے ہوئے اس کے بے تحاشا استعمال پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کیا۔ جماعت اسلامی ہند کی اسسٹنٹ سکریٹری رابعہ بصری نے ٹیکنالوجی کے ساتھ متوازن تعلق قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے یہ بنیادی سوال اٹھایا کہ کیا ٹیکنالوجی کی ترقی انسانوں کو ایک بہتر انسان بننے میں کسی طرح کی مدد فراہم کر رہی ہے؟
معروف ماہر نفسیات اور کونسلر رچنا شریواستو نے انسانی شناخت اور تعلقات پر ٹیکنالوجی کے مثبت اور منفی دونوں طرح کے اثرات کا ذکر کیا۔ ڈیجیٹل اور کاروباری شعبے سے تعلق رکھنے والی زیب خواجہ نے نوجوان نسل پر ٹیکنالوجی کے اثرات پر گفتگو کی۔ ماہر نفسیات اور کونسلر ڈاکٹر راحیلہ خان نے اسکرین ٹائم کے حد سے زیادہ استعمال کے نفسیاتی اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ جذبات کے اظہار کے روایتی طریقوں کی جگہ پیغامات، ریلز، واٹس ایپ اسٹیٹس اور ایموجیز لیتے جا رہے ہیں۔
ماہر نفسیات اور کیریئر کونسلر ڈاکٹر انکش ورما نے ایسے دور میں انسانی اقدار کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا جو مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی وجہ سے تیزی سے متاثر ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر حمیرا نورین کی نظامت میں ہونے والی اس پینل ڈسکشن میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ٹیکنالوجی کے ساتھ صحت مند تعلق برقرار رکھنا صرف کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ افراد، والدین، اساتذہ، سرپرستو ں، کونسلرز، برادریوں اور اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
No Comments: