
ایم سی ڈی نے ساﺅتھ زون کے ڈپٹی کمشنر سمیت پانچ افسروں کو کیا معطل
حادثے کے بعد دہلی میں پانچ منزلہ عمارتوں کو فوری سیل کرنے کی ہدایت
ہائی کورٹ میں درخواست، لواحقین کو ایک ایک کروڑ روپے معاوضے کا مطالبہ
نئی دہلی، 7 ستمبر (میرا وطن نیوز)
جنوبی دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں اتوار کوپیش آئے پیئنگ گیسٹ (پی جی) بلڈنگ کے فرار مالک کو دہلی پولیس نے پیر کو راجستھان سے گرفتار کر لیا ہے ۔دہلی میونسپل کارپوریشن نے ساﺅتھ زون کے ڈ پٹی کمشنر سمیت پانچ افسروں کو معطل کردیا ہے۔ہائی کورٹ میں درخواست داخل کر لواحقین کو ایک ایک کروڑ روپے معاوضے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس حادثے میں ہلاک ہو نے والو ں کی تعداد بڑھ کر 7 ہوگئی ہے۔ حادثے کا شکار ہونے والی عمارت پی- 14میںاین ڈی آر ایف، فائر بریگیڈ، دہلی پولیس اور دیگر متعلقہ ایجنسیوں کی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔ اب تک 10 افراد کو ملبے سے بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔پولیس نے اس معاملے میں مبینہ مالک اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ایک اہم پیش رفت کے دوران جنوب مغربی دہلی کے ستیہ نکیتن میں پانچ منزلہ پی جی عمارت منہدم ہو نے کے معاملے میں پولیس نے کلیدی ملزم اور عمارت کے مالک ہری رام بنسل کو آج پیر کو راجستھان کے بھیواڑی سے گرفتار کر لیا۔ حا د ثے کے بعد سے ہری رام بنسل فرار تھا۔ادھر ایم سی ڈی انتظامیہ نے فوری کار روائی کرتے ہوئے پا نچ افسروں کو معطل کردیا ہے ۔ان میں ڈپٹی کمشنر (ساﺅتھ زون)، سپرنٹنڈ نگ انجینئر (بلڈنگ)، ایگز یکٹو انجینئر (بلڈنگ)، اسسٹنٹ انجینئر (بلڈنگ ) اور جونیئر انجینئر (بلڈنگ) شامل ہیں۔ جبکہ دہلی سرکارنے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اس خوفناک حادثے نے پی جی کے طور پر استعمال ہونے والی عمارتوں کی حفاظتی انتظا ما ت کے ساتھ راجدھانی کے گنجان آبادی والے علاقوں میں تعمیراتی اور فائر سیفٹی ضوابط پر عمل درآمد پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پی-14 عمارت 1990 کی دہائی میں تعمیر کی گئی تھی۔دہلی سرکارنے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے پیر کی صبح ستیہ نکیتن حادثے کے مقام کا دورہ کرکے سکیورٹی انتظامات اور جاری کارروا ئیو ں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ عمارت کے مالک کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔ریکھا گپتا نے دہلی میں پانچویں منزل تک تعمیر شدہ عمارتوں کو فوری طور پر سیل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کے لیے ذمہ دار پائے جانے والے ایم سی ڈی کے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے ستیہ نکیتن کے آس پاس موجود پی جی اور دیگر عمارتوں کی بھی بڑے پیمانے پر جانچ کرنے اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پائے جانے پر انہیں سیل کرنے کی ہدایت دی ہے۔
جنوبی دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں عمارت اچانک منہدم ہونے کے واقعے کی تحقیقات اور حادثے میں ہلاک ہونے والے طلبہ کے اہل خانہ کو ایک ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔ عدالت نے اس درخواست پر سماعت کرنے پر رضامند ی ظاہر کی ہے۔پیر کے روز درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے چیف جسٹس ڈ ی کے اپادھیائے کی سربراہی والی بنچ کے سامنے درخواست کا ذکر کرتے ہوئے فوری سماعت کی درخوا ست کی، جس کے بعد عدالت نے اس پر سماعت کا یقین دلایا۔یہ درخواست قانون کے طالب علم انکت کمار گپتا نے دائر کی ہے۔
No Comments: