
ستیہ نکیتن حادثے کو لے کرعام آدمی پارٹی کا بی جے پی رکن اسمبلی انل شرما کے گھر کے باہر احتجاج
نئی دہلی، 7ستمبر(میرا وطن نیوز )
عام آدمی پارٹی نے دہلی کے ستیہ نکیتن میں گری عمارت کے ملبے میں دبے طلبہ کے بچا ¶ کا کام جاری رہنے کے دوران وزیر اعظم کے پیرس میں مندر کے افتتاح کا جشن منانے پر سوال اٹھایا ہے۔ پارٹی نے امدادی اور بچا ¶ کے کام کی سست رفتاری پر بھی سرکار کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ آپ کے سینئر لیڈر اور دہلی کے سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے وزیر اعظم کی ٹویٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں طلبہ ہاسٹل کے ملبے میں دب کر جان گنوا رہے ہیں اور ملک کے وزیر اعظم پیرس میں ایک مندر کے افتتاح کا جشن منانے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اس ملک میں اس سے زیادہ بے حس لیڈر کبھی ہوا ہے؟ مسئلہ مندر کا نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ملک کے بچے اب بھی ملبے کے نیچے دبے مر رہے ہوں تو وزیر اعظم کس خوشی کے معاملے میں مصروف ہیں؟
عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور ایم سی ڈی میں قائد حزب اختلاف انکش نارنگ نے ستیہ نکیتن میں پی جی حادثے کے لیے بی جے پی سرکار میں پھیلی بدعنوانی کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی صرف اپنی جیبیں بھرنے کے لیے دہلی کے لوگوں کی جان خطرے میں ڈال رہی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پہلے پیش آنے والے حادثات سے بی جے پی کی دہلی سرکار اور ایم سی ڈی سبق حاصل کر تی ، لیکن انہوں نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ انہوں نے ایم سی ڈی کے بلڈنگ ڈپارٹمنٹ کو اپنی لوٹ کا ذر یعہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حادثے کے بعد سے بی جے پی کے میئر پرویش واہی اور سا ¶تھ زون کے چیئرمین غائب ہیں۔
عام آدمی پارٹی کے اراکین اسمبلی اور کونسلروں نے ستیہ نکیتن عمارت حادثے کے سلسلے میں پیر کو بی جے پی رکن اسمبلی انل شرما کے گھر کے باہر احتجاج اور نعرے بازی کی۔ اس موقع پر ریاستی صدر سوربھ بھار دواج نے کہا کہ ستیہ نکیتن علاقے میں بڑی تعداد میں پی جی چل رہے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ریکھا گپتا سرکارستیہ نکیتن میں کون سا پی جی کس کا ہے، اس کی فہرست جاری کرے۔ اس سے معلوم ہوجا ئے گا کہ کون سا پی جی کس کا ہے، پی جی مافیا کون چلا رہا ہے، جو مہنگے پی جی میں طلبہ کا استحصال کر رہا ہے، اور ایم سی ڈی ان غیر قانونی پی جی کے خلاف کارروائی کرنے کی ہمت کیوں نہیں کر پا رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ پی جی میں بی جے پی کے بڑے بڑے لیڈروں کی موٹی رقم لگی ہوئی ہے۔ جب بڑے بڑے لیڈر پی جی چلائیں گے تو ایم سی ڈی کا انجینئر یا پولیس کانسٹیبل کارروائی کیسے کر سکتا ہے؟
No Comments: