Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

جماعت اسلامی ہندکا نیپال کے سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کاموں کا منصوبہ

نیپال دورے سے واپسی پرجماعت اسلامی ہند کے وفد نے میڈیا کو کرایا واقف

پریس کانفرنس میں کاسٹ ازم، ایس آئی آر اور مذہبی آزادی کے مسائل اٹھائے گئے
سہارنپور تاریخی مسجد کا انہدام ہندوستانی جمہوریت کے لیے ایک بدنما داغ ہے

نئی دہلی،7ستمبر (میرا وطن نیوز )
گزشتہ 26 اگست کو نیپال کے بھوٹے کوشی تریشولی میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا زمینی جائزہ لینے کے بعد جماعت اسلامی ہند کا وفد تین روزہ دورے سے واپس آگیا ہے۔ وفد نے سیلاب سے تباہ ہونے والے علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرین اور مقامی ذمہ داران سے ملاقاتیں کیں۔ و فد نے اس قدرتی آفت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی انسانی ضروریات کا جائزہ لیا۔ اراکین وفد کی مشا ہدات اور سفارشات کی بنیاد پر جماعت اسلامی ہند نے نیپال میں ہنگامی امدادی کاموں کا منصوبہ بنایا ہے۔
مرکز کے میڈیا ہال میں منعقدہ ماہانہ پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی ہند کے قومی سکریٹری مولانا شفیع مدنی نے کہا کہ نیپال میں آنے والی تباہی کا پیمانہ انتہائی وسیع ہے اور اس وقت پہلی ترجیح متاثرہ خاندانوں تک خوراک، طبی سہولیات، صاف پانی اور دیگر ضروری امداد پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیپال کی حکومت اور اس کے متعلقہ ادارے انتہائی مشکل حالات میں غیر معمولی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تاہم تباہی کی شدت اور اس کے پھیلا ¶ کے باعث ان کی کوششوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ امدادی اور بچا ¶ کی کارروائیاں ابھی جاری ہیں اور متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو زندہ نکالا جا رہا ہے۔
پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے آئینی تحفظات اور قوا نین کے باوجود ذات پات کی بنیاد پر بھید بھا ¶ اور مظالم کے برقرار رہنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ این سی آر بی کے تازہ ترین اعداد و شمار انتہائی تشویش ناک ہیں۔ 2023 میں درج فہرست ذاتوں کے خلاف 57,789 جرائم درج کئے گئے، جبکہ درج فہرست قبائل کے خلاف جرائم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ واقعات، جن میں مدھیہ پردیش میں ایک دلت طالب علم پر حملہ اور ذات پات کی بنیاد پر گالیاں دینے کا واقعہ اور راجستھان میں دو دلت افراد کی اہانت شا مل ہے۔ یہ واقعات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ ذات پات کا تعصب آج بھی روزمرہ زندگی میں انسان کی عزت و وقار کو مجروح کر رہا ہے۔
پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ ایس سی/ایس ٹی ایکٹ جیسے قوانین ناگزیر ہیں، لیکن صرف قوانین ایسے سماجی رویے کو ختم نہیں کرسکتے جو تذلیل، بھید بھا ¶ اور سماجی بائکاٹ کی اجازت دیتا ہو۔ انہوں نے موجودہ قوانین کے م ¶ثر نفاذ، مقدمات کے تصفیہ میں تیزی، متاثرین کے تحفظ اور ذہنیت کی تبدیلی کے لیے اخلاقی اور تعلیمی کوششوں پر زور دیا۔سلیم انجینئر نے واضح کیا کہ اسلام پیدائش، ذات، نسل یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر کسی کے بھی ساتھ بھید بھا ¶ کو سختی سے مسترد کرتا ہے اور ہر انسان کے ذاتی وقار اور عز ت کو تسلیم کرتا ہے۔
نائب امیر ایس امین الحسن نے مذہبی آزادی کے تعلق سے بات کرتے ہوئے ہندوستان میں مذہبی آز ادی کو پاما ل کرنے والی قانونی پابندیوں اور سماجی رکاوٹوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ سہارنپو ر کلکٹریٹ کے احاطے میں واقع ایک تاریخی مسجد کا انہدام ہندوستانی جمہوریت کے لیے ایک بدنما داغ ہے اور اس سے مذہبی آزادی، اقلیتی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انہدام کی کارروائیوں کے سلسلے میں سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی واضح گائڈ لائن کی پابندی کی گئی یا نہیں؟ انہوں نے کہا کہ اگر کسی ایسی عبادت گاہ کی حیثیت جو کئی دہائیوں سے عوام کے استعمال میں رہی ہو، چند من مانی کرنے والے قائدین اور ان کے فرماں بردار افسران کے ذریعہ طے کی جاسکتی ہے تو ایسے میں ہمارے سیاسی نظام کی پوری عمارت اور قانون کی بالادستی پر سے عوام کا اعتماد اٹھ جائے گا۔
ایس امین الحسن نے ساکیت پولیس اسٹیشن میں دو مسلم خواتین صحافیوں شاہین خان اور نفیسہ خان کے ساتھ ہوئے تشدد اور بدسلوکی کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ کسی فرد کی مذہبی شناخت امتیازی سلوک کی بنیاد نہیں بن سکتی۔ انہوں نے ایس آئی آر اور اس کے نتیجے میں ووٹروں کے حق رائے دہی سے محروم ہونے کے خدشے پراپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *