
ہندو ستان کو ان 5سر فہرست ممالک میں رکھا ہے جن کے ساتھ سفارتی تعلقات کو ترجیح دی گئی ہے:ڈا کٹر محمد فتح علی
نئی دہلی، 14 اپریل(میرا وطن نیوز )
ہندوستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹر محمد فتح علی نے کہا کہ جب ہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر تھے تب اسکولوں اور اسپتالوں پر حملے کرکے ایران کے بے قصور شہریوں کو شہید کیاگیا ۔انہوں نے اسلا م آباد مذ اکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں جوہری خدشات ،پابندیوں سے راحت اور جنگ میں ہو ئے نقصان کی تلافی جیسے معاملات کا احاطہ کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم امن مذاکرات کے لئے ہمیشہ تیار ہیں لیکن اگر کسی نے ہمیں چیلنج کرنے کی کوشش کی تو اسے جواب دینے میں بھی پیچھے نہیں ر ہیں گے۔
اس موقع پرایرانی سفیر نے امریکہ کے ساتھ آئندہ ممکنہ بات چیت سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ مذاکرا تکا دوسرا دور اسی صورت میں ممکن ہے جب امریکہ غیر قانونی مطالبات کرنا بند کردح اور ایرا ن کے جائزمطالبات تسلیم کرے۔ڈاکٹر فتح علی نے کہا کہ امریکہ کو اپنی 42روزہ جنگ کے تجربے سے سبق سیکھنا چاہئے ،اسے حقیقی ایران کو سمجھنا چاہئے ۔
ایرا نی سفیر نے کہا کہ امریکہ نے ایران کے رہنماﺅں ،فوج اور عوام کو سمجھنے میں غلطی کی جس کی وجہ سے اسے اسٹریجک ناکامی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران نے یکطرفہ امریکی پابندیوں کے باوجود چار دہائیوں تک مضبوطی سے کھڑے ہوکر دکھا دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایران کے لئے سفارت کاری ان کے محافظوں کی کارروائی کی توسیع ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران امریکہ کی جانب سے کئے گئے وعدو ں کی خلاف ورزی اور اس کے برے عزم کو نہ تو بھولا ہے اور نہ ہی بھولے گا۔
ایران کے سفیر ڈاکٹر محمد فتح علی نے کہا کہ تہران اور دہلی کے درمیان تاریخی اور قریبی تعلقات ہیں اور ا یر ان ہرمز کے راستے ہندوستانی جہازوں کو نکالنے کے لئے خصوصی انتظامات کر رہا ہے ۔ہندوستانی بحر ی جہازوں کے لئے محضوص راستہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مو دی اور ایرانی صدر مسعود پیز شکیان کے درمیان بات چیت ہوئی ہے ۔ایران کے وزیر خارجہ نے ہندو ستان کو ان 5سر فہرست ممالک میں رکھا ہے جن کے ساتھ سفارتی تعلقات کو ترجیح دی گئی ہے ۔
ڈاکٹر محمدفتح علی نے واضح کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہندوستانی جہازوں سے کوئی ٹول یا فیس نہیں لی ہے،حکومت ہند نے بھی مسلسل ٹول کی خبروں کی تردید کی ہے ۔انہوں نے حکومت ہند اور ہندوستانی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے مشکل وقت میں خود ایک قابل اعتماد اور حساس ساتھی ثابت کیا ہے ۔دونوں ممالک کے درمیان گہرے ثقافتی تعلقات اور مشترکہ مفادات ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا اختیار ہے اور اب بھی ایران کے کنٹرول میں کام کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آ ئندہ چند دنوں میں ہم آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے لئے ایک طریقہ کار طے کریں گے جس کا اعلان جلد کیا جائے گا۔
No Comments: