Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

اسلام کے تلوار سے پھیلنے سے لے کر مذہبی بنیادوں پر مندروں کی مسماری کی داستانوں کا حقیقی تاریخ سے کوئی تعلق نہیں

انڈیا ہسٹری فورم کے زیر اہتمام انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں مسلم تاریخ پر منعقدہ دو روزہ ہسٹری کانفر نس سے ماہرین کا خطاب

نئی دہلی،12اپریل (میرا وطن نیوز )
انڈیا ہسٹری فورم کے زیر اہتمام انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں منعقدہ دو روزہ نیشنل ہسٹری کانفرنس کامیا بی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ کانفرنس میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے ممتاز دانشوروں، مو ¿رخین، اساتذہ، سماجی کارکنان اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس کا مقصد ہندوستانی تاریخ کے تحقیقی مطالعہ کو فروغ دینا اور اس میں مسلمانوں کے تاریخی کردار کو اجاگر کرنا تھا۔
کانفرنس میں کئی معروف شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا، جن میں سلمان خورشید ، پروفیسر انیتا رام پال ،پروفیسر این سکمار، پروفیسر سلیم انجینئر ، ڈاکٹر رام پونیانی، عبد السلام پوتگے، ایس ایم عزیزا لد ین حسینی، ڈاکٹر اشتیاق حسین ، شاہد صدیقی اور پروفیسر اجے گوڈاورتی وغیرہ شامل ہیں۔
اس موقع پررام پونیانی نے کہا کہ گزشتہ تین سے چار دہائیوں کے دوران ہندوستان میں تاریخ کو غلط انداز میں پیش کرنے کا رجحان بڑھا ہے، جس کے ذریعے مخصوص تاریخی واقعات کو چن کر نفرت کو فرو غ دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ماضی کی جنگیں زیا دہ تر اقتدار، وسائل اور سیاسی مفادات کے لیے لڑی گئیں، نہ کہ مذہب کی بنیاد پر۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تاریخ کو سمجھنے کے لیے اس کا گہرائی سے اور غیر جانبدارانہ مطالعہ ضروری ہے۔
عبد السلام پوتگے نے کہا کہ ہندوستانی مسلمان اسی سرزمین کے باشندے ہیں اور انہیں بیرونی قرار دینا تاریخی حقائق کے منافی ہے۔ انہوں نے ڈی این اے تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستا ن کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے مختلف ادوار میں اسلام قبول کیا، اور اس کی بڑی وجہ اسلام کا عقیدہ توحید، روحانیت اور مساوات کا پیغام تھا۔
سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا کہ نہ صرف یہ کہ ماضی میں بلکہ جدید بھارت کی تشکیل میں بھی مسلمانان ہند کا غیر معمولی رول رہا ہے۔ نفرتوں اور غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے اس حقیقت کو بار بار مختلف حوالوں سے اہل وطن کے سامنے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔
پروفیسر ایس ایم عزیزالدین حسینی نے ہندوستانی تاریخ میں مسلمانوں کی علمی، سائنسی اور تہذیبی خدما ت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں نے نہ صرف مذہبی علوم بلکہ سائنس، فلسفہ اور ادب کے میدان میں بھی نمایاں کارنامے انجام دیے۔
ڈاکٹر اشتیاق حسین نے قرونِ وسطیٰ کے ہندوستانی معاشرے کو سمجھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دور میں مختلف زبانوں اور علوم کے درمیان تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں سنسکرت کی کئی اہم کتابو ں کا مقامی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مغلیہ دور میں فارسی سرکاری زبان ہونے کے باوجود سنسکرت اور دیگر مقامی زبانوں کو نقصان نہیں پہنچایا گیا بلکہ انہیں فروغ ملا۔
پروفیسر انیتا رام پال نے اپنے خطاب میں نصابی کتب کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی مواد نئی نسل کی فکری تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو کس نوعیت کی تاریخ اور معلومات منتقل کر رہے ہیں، کیونکہ یہی مواد ان کے خیالات، رویوں اور سماجی شعور کو تشکیل دیتا ہے۔
پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ ملک میں تاریخی طور پر کئی سماجی برائیوں کے خاتمے اور سماجی اصلاحی تحریکا ت کی تشکیل میں اسلامی تعلیمات کا غیر معمولی رول رہا ہے۔ اس دو روزہ کانفرنس میں ملک کے مختلف یونیورسٹیوں سے آئے ہوئے ریسرچ اسکالرس نے ملک میں اسلام اور مسلمانوں کے تاریخی کردار اور اثرات پر 20 سے زائد تحقیقی مقالات پیش کیے نیز متواز ی سیشنز کے ذریعے چار منتخبہ کتابوں کے مصنفین کے ساتھ بک ڈسکشن پروگرام منعقد کیا گیا۔
کانفرنس کے اختتام پر شرکاءنے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ دور میں تاریخ کو تعصب سے پاک ہو کر، سائنسی اور تحقیقی بنیادوں پر سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایسے علمی و فکری پروگراموں کے ذریعے معاشرے میں علمی و تحقیقی رجحانات ، سماجی ہم آہنگی، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دینے میں کافی مدد ملے گی۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *