
نئی دہلی، 12 اپریل(میرا وطن نیوز )
پردیش کانگریس صدر دیویندر یادو نے کہا کہ یہ مرکزی اور دہلی دونوں سرکاروں کے لیے واضح طور پر شر مناک ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانے اور قانون ساز اسمبلی میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے بار ے میں بڑے دعوو ¿ں کے باوجود دہلی میں خواتین کی افرادی قوت کی شرکت کی شرح قومی اوسط 35 فیصد سے کم ہے۔
اس موقع پر دیویندر یادو نے کہا کہ بی جے پی کی خاتون وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجودبی جے پی سرکار ا پنی اس یقین دہانی کو بھی پورا کرنے میں ناکام رہی ہے جو اس نے اسمبلی انتخابات سے قبل کی تھی، جس نے دہلی میں ہر خاتون کو 2500 روپے ماہانہ وظیفہ اور ڈی ٹی سی بسوں میں خواتین کے لیے مفت سفر کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے بجائے، مفت بس سفر کے لیے ’پنک کارڈز‘ جاری کرنے کے بہانے، سرکار خواتین پر غیر معقول شرائط عائد کر کے ان کی اکثریت کو اس سہولت سے محروم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
106ویں ترمیمی ایکٹ 2023 کے تحت لوک سبھا، ریاستی قانون ساز اسمبلیوں اور دہلی قانون ساز اسمبلی میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن لازمی قرار دیا گیا ہے۔ دیویندر یادو نے کہا کہ اگر دہلی میں تعلیم یافتہ خواتین بے روزگار رہتی ہیں تو اس کی وجہ مودی سرکار کا خواتین مخالف موقف ہے، جس نے گزشتہ 11 سالوں میں راجدھانی میں تعلیم یافتہ خواتین کے لیے فائدہ مند روزگار حاصل کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔
No Comments: