
مرحوم آبائی قبرستان میں بڑی تعداد میں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک
ہاپوڑ،13اپریل (میرا وطن نیوز )
اتر پردیش کے ہاپوڑ کے علاقے کے نمک کے معروف تاجر، ایک ممتاز سماجی کارکن، اور سادہ زندگی کا مظہر – حاجی اسلام الدین قریشی طویل علالت کے بعد کل رات انتقال کر گئے۔ ’انا للہ و انا الیہ راجعون‘ (بے شک ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں)۔ ان کے انتقال کی خبر سے پورے شہر اور اس کے گردونواح میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔مرحوم کی نماز جنازہ بعد نماز ظہر عید گاہ گیٹ بلند شہر روڈ پر جمعیت علماءہند کے قومی صدر حضرت مولانا سید ارشد مدنی نے پڑھائی۔ مرحوم کو آبائی قبرستان کریم پور ہ بلند شہر روڈ ہاپوڑ میں سپرد خاک کردیا گیا۔تدفین میں شہر اور گردونواح سے لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کرکے انہیں دلی الوداع کیا۔
غور طلب یہ ہے کہ حاجی اسلام الدین قریشی مفتی محمد ایوب قاسمی – جامعہ عربیہ خادم الاسلام، ہاپوڑ میں ’استا ذحدیث‘ (پرو فیسر حدیث) اورجامعہ ملیہ اسلامیہ طلبا یونین کے سابق صدر اور انڈین نیشنل کانگر یس کے سینئر رہنما بدر الدین قریشی کے بڑے بھائی تھے۔ انہوں نے مومن چیریٹیبل ٹرسٹ کے سینئر ممبر کی حیثیت سے خدما ت انجام دیں اور سماجی خدمت کے شعبے میں ان کی خدمات مسلسل قابل ستا ئش تھیں۔
مرحوم نے ساری زندگی سادگی، خدمت اور انسانیت کے اصولوں پر کاربند رہنے میں گزاری۔ اپنے قد و قامت کے باوجود وہ ہمیشہ عاجزی کی زندگی بسر کرتے تھے اور ضرورت مندوں کی مدد کو اپنی ذاتی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ خاص طور پر، انہوں نے غریب اور پسماندہ بچوں کی تعلیم میں ایک اہم کردار ادا کیا، اس طرح بہت سی زندگیوں کو بہتر راستے کی طرف گامزن کیا۔
پسماندگان میں چار بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں ۔اپنے پانچ بھائیوں میں سب سے بڑے تھے ۔مرحوم کے والد کا انتقال بچپن ہی میں ہوگیا تھا ۔انہوں نے اپنے خاندان کے اندر بھی تعلیم کو سب سے زیادہ ترجیح دی۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ان کے چھوٹے بھائی اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔اپنے گھر میں چار بھائی ،ایک بہن اور والد کی تمام تر ذمہ داریاں خود نبھائیں ۔ایک بھائی نے دارالعلوم میں ’مفتی ‘ کی تربیت مکمل کی اور اس وقت مغربی اتر پردیش کے ایک معروف مدرسے میں ’نائب مہتمم ‘ (نائب منتظم) کے طور پر خد مات انجام دے رہے ہیں، جبکہ دوسرے بھائی نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور طا لب علم کی قیادت میں اپنی ایک الگ شناخت بنائی۔
حاجی صاحب سماجی اور معاشرتی امور میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔ انہوں نے ’ملک اور ملت بچاو ¿‘ (سیو دی نیشن اینڈ دی کمیونٹی) مہم میں جوش و خروش سے حصہ لیا اور اس سلسلے میں قید کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ ان کی زندگی جدوجہد، خدمت اور لگن کی روشن مثال کے طور پر ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
اس افسوسناک موقع پر ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر اجے رائے،انڈین نیشنل کانگریس کے سکریٹری پردیپ ناروال،ضلع کانگریس صدرراکیش تیاگی،سابق وزیر ستیش شرمااور امت اگروال ،سماج وادی پارٹی کے یو تھ ونگ لیڈر محمد شارق خان ،ڈاکٹر ممتاز احمد ہیڈ مکینیکل انجینئرنگ اور سابق پرنسپل یونیور سٹی پولیٹیکنک جا معہ ملیہ اسلامیہ،سماجی کارکن عبد الغفار خان ،ایلومنائی جامعہ زبیر احمد ’بابا‘، زبیر ارشاد دبئی ، سید وصال مہدی،محمد خالد،اخلاق احمد خان ،سید محمد کاظم ،ندیم الدین چودھری ،ڈاکٹر عابد حسین ، ،سیدنجمی اصغر ،قاسم پردھان ،محمد کلیم اور عالم سیفی کے علاوہ متعدد سماجی کار کنو ں اور سیاسی معززین نے فو ن پر اور ذاتی طور پر ملاقات کرکے مرحوم کو دلی خراج عقید ت پیش کرتے ہوئے اپنے گہرے غم کا ا ظہا ر کیا۔اس موقع پرمفتی محمد ایوب قاسمی نے تمام اہل خیر سے مر حوم کی روح کے ایصال ثواب اور سو گو ار خاندان کے لیے صبر جمیل کی دعا کرنے کی اپیل کی ہے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقا م عطا فرمائے اور لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
No Comments: