
نئی دہلی، 2 اپریل(میرا وطن نیوز )
رشین فیڈریشن کی فیڈرل اسمبلی کی فیڈریشن کاﺅنسل کے فرسٹ ڈپٹی اسپیکر ایچ ای ولادیمیر یاکو شیوکی قیادت میں ہندوستان کے دورے پر آئے روسم کے پارلیمانی وفد نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاو ¿س میں لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کی۔
اس موقع پرروسی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے ا سپیکر نے یاکوشیف کو فیڈریشن کونسل کے پارلیمانی فر ینڈ شپ گرو پ کا چیئرمین منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتخاب روس کے ہندو ستان کے ساتھ پارلیمانی تعاون کو بڑھانے کے مسلسل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ دو نوں ملکوں کے درمیان شراکت داری کی جڑیں باہمی اعتماد پر ہیں اور یہ و قت کی کسوٹی پر پورا اترا ہے۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ ہندوستان کی آزادی کے بعد سے روس اس کا سب سے قریبی اور قابل اعتماد شراکت دار رہا ہے، اور دونوں ممالک کے لوگوں کے درمیان دوستی اور تعاون پوری دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔
دونوں فریقوں نے بین الپارلیمانی یونین (آئی پی یو)، برکس پارلیمانی فورم، اور جی 20 جیسے کثیر الجہتی پارلیمانی فورمز میں تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ا سپیکر نے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تعاو ن کے جذبے کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ بات چیت کے دوران دفاع، تجارت اور اقتصادی تعاون جیسے اہم شعبوں میں دوطرفہ تعاون پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ خلائی تحقیق، مصنوعی ذہانت (AI) اور صاف توانائی کو ابھرتے ہوئے شعبوں کے طور پر شناخت کیا گیا جو مستقبل میں تعاون کے امکانات رکھتے ہیں۔
اس موقع پر ولادیمیر یاکوشیف نے کہا کہ ہندوستان-روس اسٹریٹجک پارٹنرشپ روس کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ مختلف عالمی پلیٹ فارمز جیسے برکس اور پی-20 پر دونوں ممالک کے درمیان قر یبی پارلیمانی تعاون پر زور دیتے ہوئے انہوںنے کہا کہ برکس چیئر کی حیثیت سے، ہندوستان اس سا ل برکس پارلیمانی فورم کے اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ انہوں نے ہندوستان-روس پارلیمانی دوستی گروپ کی تشکیل کا خیرمقدم کیا اور بتایا کہ ہندوستان کے دورے کے دوران روسی وفد پارلیمانی کمیٹی برائے مواصلات اور آئی ٹی کے ساتھ ساتھ ہندوستان-روس پارلیمانی دوستی گروپ کے ساتھ ملاقا تیں کرے گا۔
انہوں نے برلا کو روس کا دورہ کرنے اور بین الپارلیمانی کمیشن کو دوبارہ شروع کرنے کی دعوت بھی دی ۔ انہوں نے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان موجود قریبی ثقافتی تعلقات کو مزید اجاگر کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پینتیس ہزار سے زیادہ ہندوستانی طلباءاس وقت روس میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اس طرح دو طرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے میں تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے تجارت اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کی امید ظاہر کی۔
No Comments: