
نئی دہلی، 13مئی(میرا وطن نیوز )
عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کجریوال نے روس سے گیس لے کر بھارت آ رہے ایک جہاز کو مرکزی سرکارکی جانب سے واپس لوٹانے پر وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ بولا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم سے کہا کہ آپ ٹرمپ کے آگے جھکنا بند کیجیے اور فوری طور پر روس سے تیل و گیس خریدنا شروع کیجیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف آپ ملک کو پٹرول، ڈیزل اور گیس بچانے کا مشورہ دے رہے ہیں اور دوسری طرف جب روس تیل و گیس دے رہا ہے تو آپ لینے سے انکار کر رہے ہیں، آخر کیو ں؟
اروند کجریوال نے کہا کہ پورے ملک میں یہ افواہ پھیلی ہوئی ہے کہ اڈانی کو بچانے اور ایپسٹین فائل میں نام آنے کے خوف سے مودی جی بہت ڈرے ہوئے ہیں۔ لیکن ملک کے عوام کو آپ کی ذاتی زند گی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اگر آپ اپنے ذاتی دبا ¶ برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو استعفیٰ دے دیجیے۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ ابھی خبر آئی ہے کہ گزشتہ دو تین دنوں میں روس سے ایک جہاز گیس لے کر بھارت کے لیے روانہ ہوا تھا۔ بھارت سرکار نے اس جہاز کو روک دیا اور روس سے کہا کہ ہمیں گیس نہیں چاہیے۔
اروند کجریوال نے کہا کہ دوسری طرف ملک کے وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ اسکوٹر، موٹر سائیکل اور کار استعمال نہ کرو، ورک فرام ہوم کر لو اور تیل بچا ¶۔ وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ تیل اور گیس کی کمی ہے، کھا د کا استعمال نہ کرو۔ روس بھارت کو تیل اور گیس دے رہا ہے، لیکن بھارت سرکار کہہ رہی ہے کہ ہم روس سے تیل و گیس نہیں خریدیں گے کیونکہ ٹرمپ نے منع کیا ہے۔اروند کجریوال نے وزیر اعظم مودی سے سوال کیا کہ آپ ٹرمپ کے سامنے کیوں جھکے ہوئے ہیں؟ ملک کے 140کروڑ عوام کا مفاد زیادہ اہم ہے یا ٹرمپ؟ مودی جی کی ایسی کیا مجبوری ہے کہ وہ ٹرمپ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں؟ مودی جی ٹرمپ کی بات کیوں مان رہے ہیں؟ پوری دنیا میں کسی ملک کا لیڈر ٹرمپ کی ہر بات نہیں مان رہا، صر ف مودی جی ہی کیوں مان رہے ہیں؟
اروند کجریوال نے کہا کہ سفارت کاری تو یہ کہتی ہے کہ ایسے وقت میں سام، دام، دَند، بھید اپنا کر جہاں سے بھی تیل و گیس ملے، حاصل کر لینی چاہیے۔ لیکن وزیر اعظم لینے سے انکار کر رہے ہیں۔انہوںنے وزیر اعظم سے کہا کہ مجھے نہیں معلوم آپ کی ذاتی مجبوری کیا ہے، لیکن اگر مودی جی اپنے ذاتی دبا ¶ کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو استعفیٰ دے دیجیے۔بھارت 140کروڑ بہادر لوگوں کا ملک ہے۔ بھارت نے بڑی بڑی قربانیاں دی ہیں۔ ہمارے ملک میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو ٹرمپ کے سامنے کھڑے ہو کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دینے کی ہمت رکھتے ہیں۔ ملک کے لوگ ایسے شخص کو وزیر اعظم بنائیں گے جو ٹرمپ کو اسی کی زبان میں جواب دے سکے۔
اروند کجریوال نے کہا کہ بھارت 140 کروڑ آبادی والا ایک عظیم ملک ہے۔ ٹرمپ کو ہماری ضرور ت ہے، امریکہ کو ہماری ضرورت ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی منڈی بھارت میں موجود ہے۔امریکہ کو اپنا مال بیچنے کے لیے بھارت کی ضرورت ہے۔ اگر امریکہ کی دس کمپنیوں کو ملک سے باہر نکال دیا جائے تو ٹرمپ کی عقل ٹھکانے آ جائے گی۔ لیکن وزیر اعظم ٹرمپ کے سامنے گڑگڑا رہے ہیں۔ وزیر اعظم کو ملک کو بتانا چاہیے کہ بھارت روس سے تیل کیوں نہیں خرید رہا۔ ملک کے 140کروڑ لوگ وزیر اعظم مودی سے اپیل کرتے ہیں کہ فوری طور پر روس سے تیل و گیس خریدنا شروع کیجیے۔ مودی جی ، ٹرمپ کی غلامی کرنا بند کیجیے۔ ہمارا ملک ایک عظیم ملک ہے، لیکن وزیر اعظم کو ٹرمپ کی غلامی کرتے دیکھ کر ملک کے لوگوں کو بہت شرمندگی اور دکھ محسوس ہوتا ہے۔
No Comments: