
نئی دہلی، 27اپریل(میرا وطن نیوز )
عام آدمی پارٹی نے دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ کنوینر اروند کجریوال کی جانب سے مبینہ آبکاری معاملے میں جج سورن کانتا شرما کی عدالت میں جاری کارروائی میں حصہ نہیں لینے کے فیصلے کو نہایت جرات مند ا نہ قرار دیا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے کہا کہ آر ایس ایس کے پروگرام میں جا کر یہ کہنا کہ جب بھی آپ کے پروگرام میں آتی ہوں تو میرا پروموشن ہو جاتا ہے، ایسے جج سے انصاف کی کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ اس صورتحال میں اروند کجریوال کا گاندھی وادی ستیہ گرہ ہی در ست راستہ ہے۔ جسٹس سورن کانتا شرما کے سامنے نہ کوئی بحث ہوگی نہ کوئی دلیل، وہ اپنی فکر کے مطا بق جو چاہیں فیصلہ کریں۔
اس موقع پرسنجے سنگھ نے کہا کہ جسٹس سوارنا کانتا شرما کے معاملے میں تین چار اہم نکات ہیں جنہیں عوا م کا جاننا ضروری ہے۔ ان کے بچوں کو سرکاری فوائد حاصل ہو رہے ہیں، جس پر ہم نے اعتراض درج کیا ہے۔ یہ وہی جسٹس سورن کانتا ہیں جنہوں نے آبکاری پالیسی معاملے میں چھ مرتبہ ہمارے خلاف فیصلے دیے، جنہیں بعد میں سپریم کورٹ نے تبدیل کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ جج ہیں جن کے پا س ای ڈی گئی اور کہا کہ ستیندر جین کے کیس میں نچلی عدالت میں جاری سماعت پر انہیں اعتماد نہیں ہے ۔ ای ڈی کے اس بیان پر جسٹس سورن کانتا نے اسے قبول کرتے ہوئے جج تبدیل کر دیا۔ جب ستیند ر جین کے کیس میں فیصلہ آنے والا تھا، تب بھی انہوں نے نچلی عدالت کا جج بدل دیا۔
سنجے سنگھ نے کہا کہ جب ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ چھ بار ہمارے خلاف فیصلہ دے چکی ہیں، سپریم کور ٹ نے ان کے فیصلے بدل دیے ہیں، ان کے بچوں کو سرکاری فائدے مل رہے ہیں اور ستیندر جین کے معاملے میں بھی وہ ایسا فیصلہ دے چکی ہیں، اس کے علاوہ وہ آر ایس ایس کے پروگراموں میں بھی جا تی رہی ہیں۔ آر ایس ایس وہ تنظیم ہے جس نے بی جے پی کو جنم دیا اور بی جے پی نے نریندر مودی اور امت شاہ کو آگے بڑھایا، اور یہی لوگ اروند کجریوال اور عام آدمی پارٹی کے خلاف فرضی مقدمات بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جسٹس سوارنا کانتا آر ایس ایس کے پروگراموں میں جا کر یہ کہتی ہیں کہ جب بھی وہ وہاں جاتی ہیں تو ان کی ترقی ہو جاتی ہے۔ ایسے جج سے انصاف کی کیا امید کی جا سکتی ہے؟ اسی لیے اروند کجریوال کا فیصلہ سو فیصد درست ہے۔ انہوں نے گاندھی وادی طریقے سے یہ فیصلہ لیا ہے کہ ہم ان کے سامنے نہ جائیں گے اور نہ کوئی دلیل پیش کریں گے، وہ جو چاہیں فیصلہ کریں۔
No Comments: