
نئی دہلی، 13مئی(میرا وطن نیوز )
عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کجریوال نے بدھ کو نیٹ پیپر لیک معاملے پر ملک کے نوجوانوں (جین-زی) سے براہ راست ورچوئل خطاب کیا۔ انہوں نے جین-زی سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پیپر لیک بہت ہو چکا، اب اس گھنا ¶نے کھیل کو بند کرنے کے لیے ملک کے نوجوانوں کو سڑکوں پر اتر کر پُرامن احتجاج کرنا ہوگا۔ انہوں نے نیپال اور بنگلہ دیش کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب وہاں کا جین-زی اپنی حکومتیں بدل سکتا ہے تو ہمارے ملک کا جین-زی پیپر لیک کرانے میں شامل وزراءاور لیڈروں کو جیل کیوں نہیں بھجوا سکتا؟ ہر بار پیپر لیک کی جانچ سی بی آئی کو سونپ دی جاتی ہے، لیکن آج تک کسی کو سزا نہیں ملی۔ اس بار بھی کچھ نہیں ہونے والا۔
اروند کجریوال نے سوال اٹھایا کہ زیادہ تر پیپر لیک بی جے پی کی سرکار والی ریاستوں میں ہی کیوں ہو تے ہیں؟ کیا اس گھنا ¶نے کھیل میں بی جے پی کے لیڈر براہِ راست شامل ہیں؟ کچھ لوگ سسٹم فیل ہو نے کی بات کرتے ہیں، لیکن وہ لوگ ایسا کہہ کر انجانے میں پیپر لیک میں شامل سب سے اوپر بیٹھے شخص کو بچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک نوجوانوں کا ہے۔ ان لیڈروں کو اس ملک سے کوئی دلچسپی نہیں، کیونکہ ان کے بچے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ملک کے ایک بڑے لیڈر نے کہا تھا کہ ضرورت پڑی تو جھولا اٹھا کر چلا جا ¶ں گا، لیکن ہم کہاں جائیں گے؟ ہمارے خاندان تو اسی ملک میں رہتے ہیں۔ اس لیے ہمیں اور نوجوانوں کو مل کر ہی اس ملک کو بچانا ہوگا۔
آپ ہیڈکوارٹر میں رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ اور دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج کے ساتھ پریس کانفر نس کرتے ہوئے اروند کجریوال نے ملک کے نوجوانوں سے کہا کہ نیٹ کا پیپر لیک ہوا ہے۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی جانچ سی بی آئی کو سونپ دی گئی ہے۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی سی بی آئی نے 10-15لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی تمام ملزمان تین سے چار ماہ میں ضمانت پر باہر آ جائیں گے، اور ہر بار کی طرح یہی لوگ اگلے سال دوبارہ پیپر لیک کی تیاری شروع کر دیں گے۔اروند کیجریوال نے نوجوانوں سے پوچھا کہ کیا آپ پیپر لیک کے معاملات سن سن کر تھک نہیں گئے؟ پیپر لیک کی ایک گھسی پٹی اسکرپٹ بن چکی ہے۔ کیا اب بھی سی بی آئی پر بھروسہ باقی ہے؟ کیا اس بار سی بی آئی کچھ کرے گی
No Comments: