
کئی کالونیوں کےلئے 70فیصد تک چھوٹ، سرکار نے پانی اور سیوریج کے IFC قوانین کو آسان بنا یا
نئی دہلی، 22 مئی(میرا وطن نیوز )
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے جمعہ کو کہا کہ سرکارنے عام شہریوں، رہائشی گھرانوں، اداروں اور صنعتوں کو بڑ ی راحت فراہم کرتے ہوئے پانی اور سیوریج انفراسٹرکچر چارجز (آئی ایف سی ) کے نظام کو معقول بنانے اور اس میں اصلاح کرنے کا فیصلہ لیاہے ۔ اس فیصلے کا مقصد عوام پر غیر ضروری مالی بوجھ کو کم کرنا، شفافیت کو بڑھانا اور ترقی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب پانی اور سیوریج کے بنیادی ڈھانچے کے چارجز کا تعین عمارت کے کل تعمیر شدہ علاقے کے بجائے پانی کی اصل مانگ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
اس تعلق سے دہلی سکریٹریٹ میں منعقد پریس کانفرنس میںریکھا گپتا نے واضح کیا کہ آئی ایف سی صر مف نئے تعمیرا تی پروجیکٹوں یا کسی موجودہ پراپرٹی کے اندر اضافی تعمیرات کے واقعات پر لاگو ہوگا۔ ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹس جن کے نتیجے میں پانی کی طلب میں اضافہ نہیں ہوتا ہے انہیں آئی ایف سی سے ا ستثنیٰ دیا جائے گا۔ مزید برآں، نان ایف اے آر (فلور ایریا ریشو) والے علاقوں کے ساتھ ساتھ کھلی ا و ر بے ڈھکی جگہوں کو پانی کی مانگ اور آئی ایف سی دونوں کے حساب میں شامل نہیں کیاجائے گا۔ انہو ں نے کہا کہ سرکار کا مقصد شہریوں کو راحت فراہم کرنا، بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنا اور پانی کے انتظا م، سیوریج ٹریٹمنٹ اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں دہلی کو ایک نمونہ کے طور پر قائم کرنا ہے۔
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے اعلان کیا کہ سرکار نے کالونیوں کے مخصوص زمروں اور سماج کے معاشی طور پر کمزور طبقات کو خصوصی راحت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیٹیگریز ‘E’ اور ‘F’ کے تحت آنے والی کالونیوں کو IFC پر 50 فیصد چھوٹ ملے گی، جبکہ کیٹیگریز ‘G’ اور ‘H’ کی کالونیوں کو 70 فیصد تک کی چھوٹ دی جائے گی۔ مزید برآں، 50 مربع میٹر یا اس سے کم کے رہائشی یونٹس، جو 200 مربع میٹر سے بڑ ے پلاٹوں پر بنائے گئے ہیں، کو اضافی 50 فیصد رعایت دی جائے گی۔ اس سے چھوٹے خاندانوں اور متوسط طبقے کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ سیکشن 12AB کے تحت رجسٹرڈ مذہبی مقامات اور خیراتی اداروں کو بھی واٹر اینڈ سیوریج انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ چارجز (IFC) پر 50 فیصد اضافی چھوٹ دی جا ئے گی۔ دریں اثنا، ماحولیاتی تحفظ کو فروغ دینے کے لیے، ‘زیرو لیکوڈ ڈسچارج’ سسٹم کو اپنانے والے اداروں اور تجارتی اداروں کو سیوریج IFCs پر 50 فیصد تک رعایت فراہم کی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ یہ رعایت صرف ان اداروں اور تجارتی اداروں تک دی جائے گی جہاں مرکز ی آلودگی کنٹرول بورڈ (CPCB) اور دہلی آلودگی کنٹرول کمیٹی (DPCC) کے مقرر کردہ معیارا ت کے مطابق زیرو لیکویڈ ڈسچارج (ZLD) پر مبنی سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (STP) نصب کیا گیا ہے اور مکمل طور پر کام کر رہا ہے۔ اگر، معائنہ کے دوران، STP بند یا غیر فعال پایا جاتا ہے، تو دی گئی چھوٹ منسوخ کر دی جائے گی، اور مستثنیٰ رقم پر روزانہ 0.05 فیصد کی شرح سے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
اس موقع پر وزیر آبی پرویش صاحب سنگھ نے کہا کہ ہماری سرکارنے اب اس نظام کو مکمل طور پر اوور ہا ل کر دیا ہے۔ IFC کے عمل کو سادہ، شفاف اور مساوی قرار دیا گیا ہے۔ 200 مربع میٹر تک کے پلا ٹ پہلے کی طرح ہی فیس سے مستثنیٰ رہیں گے اور غیر ضروری پیمائش یا اہلکاروں کی طرف سے ہراساں کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ جو کچھ بھی سرکاری دستاویزات میں درج ہوگا اسے حتمی تسلیم کیا جا ئے گا۔ بہت سے معاملات میں، جہاں پرانی سرکار کے تحت، لوگوں کو پہلے15-16 لاکھ تک ادا کر نے پر مجبور کیا جاتا تھا، اب یہ رقم کم کر کے تقریباً 2-3لاکھ رہ گئی ہے۔ یہ دہلی کے متوسط طبقے، گھر کے مالکان اور عام خاندانوں کے لیے ایک بڑے راحت کے طور پر آتا ہے۔
No Comments: