
نئی دہلی، 22مئی (میرا وطن نیوز)
شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں مسلما نوں سے اپیل کی کہ ےوم عرفہ کا روزہ ضرور رکھیں نیز ایام تشریق میں تکبیرات کا اہتمام کریں اور ملت اسلامیہ کے لیے دعا کریں۔ مسجد فتح پوری میں نماز عید الاضحی 28 مئی بروز جمعرات صبح سوا سات بجے ادا کی جائے گی۔
ڈاکٹر مفتی مکرم احمد نے کہا کہ قربانی کے ایام میں اللہ تعالی کو قربانی ہی پسند ہے جن پر قربانی واجب ہو وہ اس کی ادائیگی ضرور کریں یہ سنت ابراہیمی بھی ہے اور سنت محمدی بھی ہے قربانی مالی عبادت ہے جو شخص مالک نصاب ہو حاجت اصلیہ کے علاوہ 200 درہم چاندی یعنی 613 گرام چاندی کا مالک ہو یا حا جت کے سوا کسی ایسی چیز کا مالک ہو جس کی قیمت 200 درہم کو پہنچتی ہو تو وہ غنی ہے اس پر قربانی واجب ہے ۔ قربانی مرد پر بھی واجب ہے عورت پر بھی ۔
مفتی مکرم نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ عید الاضحی کی نماز اخلاص اور اسلامی شان و شوکت کے ساتھ ادا کریں قانونی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے قربانی کو انجام دیں صفائی ستھرائی اور سماجی آداب کا خیال رکھیں۔ شدید گرمی کا موسم ہے قربانی کا گوشت مساکین اور احباب کو دینے میں تاخیر نہ کریں قربانی کسی بند جگہ پر کریں فوٹو اور ویڈیو ہرگز نہ بنائیں قربانی عبادت ہے اس کو تماشہ یا ریاکاری کا ذریعہ نہ بنا ئیں قربانی کا فضلہ اور باقیات کو بازار میں نہ ڈالیں بلکہ پیک کر کے کوڑے خانے میں ڈالیں ورنہ آو ارہ کتے اسے جگہ جگہ پھیلا دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ حکومت عید الاضحی پر مکمل انتظامات کرے گی تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو۔
مفتی مکرم نے دھار میں بھوج شالہ کمال مولا مسجد کے بارے میں مدھےہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے پر شدید تشویش اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے انصاف کے تقاضوں کے برخلاف بتایا انہوں نے کہا کہ جو جگہ صدیوں سے مسجد ہے اور وہاں مندر ہونے کا کوئی ثبوت بھی نہیں ہے پھر بھی مسلم فریق کو وہاں عبادت کرنے سے روک دیا گیا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فاضل جج صاحبان نے بابری مسجد کے فیصلے کو نظیر بنانے کے لیے من بنا لیا تھا انہوں نے مسلم فریق کے ثبوتوں اور دستاویزات کو یکطرفہ نظر انداز کر کے فیصلہ سنایا ہے یہ فیصلہ عقیدت اور آستھا پر ایک طرفہ فیصلہ ہے جس کا ہمیں بے حد افسوس ہے یہ فیصلہ عبادات ایکٹ 91 19کے بھی خلاف ہے ۔انہوں نے ذمہ داران سے اپیل کی کہ ملک کے اصل اور ضروری مسائل کی طرف توجہ دی جائے اور اقلےتوں کو پرےشان نہ کےا جائے۔
No Comments: