
نئی دہلی ،18مئی (میر وطن نیوز )
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے 15 مئی کو ضلع دھار کی تاریخی اور قدیم مسجد ’کمال مولا مسجد‘ کو جس انداز سے سرسوتی دیوی کا مندر قرار دیتے ہوئے اے ایس آئی کے 2003 کے انتظام کو منسوخ کرکے جو فیصلہ دیا ہے، آل انڈیا ملی کونسل کسی بھی طرح مذکورہ فیصلہ کو قبول نہیں کرسکتی ہے، کیونکہ اسے حقا ئق وشواہد کے بجائے ادبی وروایتی حوالوں سے راجہ بھوج سے منسلک سرسوتی مندر قرار دیا گیا ہے۔
مرکزی دفتر آل انڈیا ملی کونسل سے جاری پریس نوٹ میں کارگزار صدر کونسل، مولانا انیس الرحمن قاسمی نے کہا ہے کہ 11ویں صدی کی کمال مولا مسجد جو آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی نگرانی میں ہے اور جو 2003 میں اے ایس آئی کے ایک انتظام کے تحت ہندو برادری کو منگل کے دن پوجا کرنے کی اجا زت دی گئی تھی، جبکہ مسلم کمیونٹی کو جمعہ کے دن نماز پڑھنے کی اجازت تھی، لیکن بعد ازاں ہندوو ¿ں کے ایک طبقہ کے ذریعہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں مذکورہ فیصلہ کے خلاف نماز پڑھنے پر روک لگا نے کا مطالبہ کردیا گیا، لیکن سپریم کورٹ میں مسلم کمیونٹی کی اپیل کے بعد ہندو برادری کے اس مطالبہ پر روک لگا دی گئی تھی۔
انہوں نے کہاکہ ہائی کورٹ نے جس طرح اے ایس آئی کے سابقہ فیصلہ کے خلاف سائٹ سروے کر ا یا جو قطعی درست نہیں تھا، عدالت عظمیٰ نے مذکورہ سروے رپورٹ کو سیل کرنے، فریقین کو کاپیاں فراہم کرنے اور حتمی سماعت پر ان کے اعتراضات پر غور کرنے کے لیے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کو ہدایت دی تھی۔ کارگزار صدر کونسل نے آگے کہا کہ حالیہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا فیصلہ ہمیں کسی طرح قابل قبول نہیں ہے۔
انہوں نے آگے یہ بھی کہا کہ بابری مسجد کے قضیہ کو جس انداز سے سیاسی شکل دی گئی اور پھر عدالتوں پر جس انداز سے دباو ¿ بنایا گیا، ہمارے سبھی مخلص اکابرین نے تادم حیات بابری مسجد کی بازیابی کی تحریک کے لیے جس طرح جدو جہد کی تھی، ہم آج بھی اپنی اس تحریک کو بھول نہیں پائے ہیں اور ہماری ہر سطح پر یہ کوشش رہنی چاہیے کہ ہم ’کمال مولا مسجد‘سے کسی بھی حال میں دستبرداری کو اپنی مجبوری نہ سمجھیں۔ ضر و ر ت ہے کہ ہم ملک کی تمام دور اندیش قیادت کو ساتھ لے کر مرکزی سرکار کے ذریعہ مدوّن شدہ Places of Worship Act 1991 کو پیش نظر رکھ کر اپنی قانونی لڑائی لڑیں، کیوں کہ ہم مذکورہ قانون 1991 کی قطعی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کریں گے اور ہماری یہ لڑائی آگے بھی جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ مسلم قیادت پہلے بھی مضبوط تھی اور ہمیں امید ہے کہ آج بھی پوری مضبوطی سے ہماری قیادت اس فیصلہ کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انھوں نے ملک کے سبھی انصاف پسندوں سے کہا کہ ہائی کورٹ کے اس مبہم فیصلہ کے خلاف آواز بلند کریں کہ اسے ہم قطعی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اس کے خلاف ہمیں متواتر ومسلسل جدوجہد کرنا ہوگا۔
No Comments: