
نئی دہلیپنجاب، 15اپریل(میرا وطن نیوز)
عام آدمی پارٹی نے پنجاب سے راجیہ سبھا کے رکن اشوک متل کے گھر اور یونیورسٹی میں ای ڈی کی چھا پہ ماری کو لے کر بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ کیا ہے۔ حال ہی میں پارٹی نے رکن پار لیمنٹ راگھو چڈھا کو ہٹا کر ان کی جگہ اشوک متل کو راجیہ سبھا میں نائب لیڈر مقرر کیا ہے۔ پارٹی اس ای ڈی کارروائی کو اگلے سال پنجاب میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے بھی جوڑ کر دیکھ رہی ہے۔ آپ کے قومی کنوینر اروند کجریوال نے ایکس (X) پر کہا کہ مودی جی نے پنجاب میں انتخابات کی تیا ر ی شروع کر دی ہے، لیکن پنجاب کے لوگ اسے برداشت نہیں کریں گے اور بی جے پی کو اس کا منہ توڑ جواب دیں گے۔ادھر، پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت سنگھ مان نے وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ کر تے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے پنجاب انتخابات کی تیاری شروع کر دی ہے۔
عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن اشوک متل کے گھر اور یونیورسٹی میں ای ڈی کی چھاپہ ماری ٹِپیکل مودی اسٹائل ہے۔ ہم وہ پتے نہیں ہیں جو شاخ سے ٹوٹ کر گر جائیں، آندھیوں سے کہہ دو اپنی اوقا ت میں رہیں۔آپ کے سینئر لیڈر اور پنجاب کے انچارج منیش سسودیا نے کہا کہ جب بھی کسی ریا ست میں انتخابات ہوتے ہیں تو مودی جی اپنی انتخابی فوج کا پہلا دستہ ای ڈی اور سی بی آئی کی صورت میں بھیجتے ہیں۔ پہلے چھاپوں کا ڈرامہ ہوتا ہے، پھر فساد بھڑکانے والی قوتیں میدان میں آتی ہیں، اور اس کے بعد امت شاہ اور مودی جی کے دورے ہوتے ہیں۔ لیکن مودی جی یاد رکھیں، یہ پنجاب ہے۔ یہاں بابا صاحب اور بھگت سنگھ سے نفرت کرنے والوں کی دال نہیں گلنے والی۔
وہیں، دہلی پردیش کے صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ بی جے پی حکومت کا ٹول باکس سب کو معلوم ہے۔ ای ڈی کے ذریعے راگھو چڈھا کو دھمکایا گیا اور انہوں نے خوف یا لالچ میں آکر اسی پارٹی کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کا فیصلہ کیا جس نے انہیں رکن پارلیمنٹ بنایا اور آج وہ جو کچھ بھی ہیں اسی کی بدولت ہیں۔ جب سوشل میڈیا پر راگھو چڈھا کو گھیر لیا گیا تو بی جے پی کے لوگ ان کے دفاع میں سامنے آ گئے۔
آپ کی سینئر لیڈر اور دہلی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف آتشی نے کہا کہ اروند کجریوال اور عام آدمی پارٹی وزیر اعظم نریندر مودی کی تفتیشی ایجنسیوں کے خوف اور دبا ¶ کی سیاست کے سامنے جھکنے والی نہیں ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ عام آدمی پارٹی کا ہر کارکن اور لیڈر سچائی کی لڑائی لڑنے کے لیے پرعزم ہے۔
No Comments: