
نئی دہلی، 13 مئی(میرا وطن نیوز )
انڈین یوتھ کانگریس نے بدھ کو NEET پیپر لیک ہونے پر مرکزی سرکار کے خلاف احتجاج کیا۔ اس موقع پر دہلی پردیش یوتھ کانگریس کے صدر اکشے لاکرا کی قیادت میں آئی وائی سی کے کارکنان یوتھ کا نگر یس کے دفتر سے رائسینا روڈ کی طرف مارچ کر رہے تھے تب پولیس نے روکاوٹیں کھڑی کرکے انہیں روک لیا۔اس کے بعد مظاہرین نے مرکزی سرکار کے خلاف زبر دست نعرے بازی کی اور ہاتھو ں میں نعرے لکھی تختیاں لے کر رکاوٹوں پر چڑھ گئے ۔
اس موقع پر دہلی پردیش یوتھ کانگریس کے صدر اکشے لاکرا نے کہا کہ پی ایم مودی دو ملکوں کے درمیان جنگ تو روک سکتے ہیں، لیکن پیپر لیک کو روکنے میں ناکام ہیں۔ جب سے این ٹی اے بنی ہے، پیپر لیک ہونے کے واقعات اکثر ہوتے رہے ہیں، میرٹ پر سوالات اٹھتے رہے ہیں، اور عدالتوں نے بھی اس کا نوٹس لیا ہے۔ پہلے، یونیورسٹیاں اور ریاستی سرکاریں خود امتحان لیتی تھیں، لیکن اب، این ٹی اے کے ذریعہ بی جے پی ہمارے بچوں کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل رہی ہے۔ آج بی جے پی نے ایسا کرپٹ نظام بنا دیا ہے کہ امیروں کے بچے پاس ہوں گے، سیٹیں حاصل کریں گے، نوکریاں ملیں گے، لیکن غریبوں کا مستقبل برباد ہو جائے گا۔
دہلی پردیش یوتھ کانگریس کے صدر اکشے لکرا نے بھی کہا کہ نیٹ پیپر لیک نے بی جے پی کے سرکردہ لیڈ روں کو بے نقاب کر دیا ہے، جو خود کوچنگ انسٹی ٹیوٹ چلاتے ہیں۔ نیٹ کے امتحان کو منسوخ کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ کیا وجہ ہے کہ پچھلے 10 سالوں میں 89 پیپرز لیک ہوئے نیٹ کا امتحان چار بار لیک ہوا، اور امتحان 48 بار دوبارہ لیا گیا؟ یہ واقعات ہمارے تعلیمی نظام پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں ۔ ہمارے طالب علموں کو احساس ہو گیا ہے کہ مودی سرکارناکام ہے۔ اس حوالے سے طلبہ میں شد ید مایوسی پائی جاتی ہے۔ آج بی جے پی طلبہ کی زندگیاں برباد کر رہی ہے۔ ہم مل کر اس ناانصافی کے خلا ف لڑیں گے اور طلباءکو انصاف دلائیں گے۔
دہلی پردیش یوتھ کانگریس کے صدر اکشے لاکرا نے مطالبہ کیا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو فوری طور پر استعفیٰ دینا چاہئے، مرکزی حکومت طلباءکو معاوضہ دے، نیٹ پیپر لیک پر جے پی سی تشکیل دی جائے، این ٹی اے امتحان کے انعقاد میں ناکام رہی ہے، اس لئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس پر مکمل پابندی لگائی جائے، امتحان کسی اور سرکاری ادارے سے کروایا جائے۔اس احتجاج میں قومی سکریٹری اور دہلی کے شریک انچارج ہیوارن کنسانا اورقومی سکریٹری احسان احمد سمیت یوتھ کانگریس کے کئی کارکنان موجود تھے۔
No Comments: