
نئی دہلی، 3 اگست (میرا وطن نیوز)
نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے کارکنوں نے پیر کو این ایس یو آئی کے قومی صد ر ونود جاکھڑ کی قیادت میں ‘چھاتر نیائے مارچ’ نکالا۔ یہ مارچ طلباپر مبینہ تشدد، پیلٹ گنوں کے استعمال اور جنتر منتر پر پرامن احتجاج میں ملوث طلبا کے خلاف پولیس کارروائی کے خلاف احتجاج کے لیے کیا گیا ۔
یہ مارچ این ایس یو آئی کے قومی دفتر سے شروع ہوا اور جنتر منتر کی طرف بڑھا۔ طلباءاور کارکنوں نے انصا ف اور جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے۔مارچ کو روکنے کے لیے بھاری پولیس فو رس تعینات اور راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی تھیں۔ اس دوران این ایس یو آئی کے کئی کارکنوں کو حراست میں بھی لیا گیا۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ نے طلبا کے خلاف پولیس کارروائی پر مرکزی حکومت کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے طلبا کے ساتھ ہونے والے سلوک کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
ونود جاکھڑ نے کہا کہ طلباءاس ملک کا مستقبل ہیں، مجرم نہیں۔ پرامن طریقے سے آواز اٹھانے والے طلبا کے خلاف پولیس فورس، پیلٹ گن، رکاوٹیں اور حراست کا استعمال مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ طلباءکی آواز کو دبانے کی ہر کوشش ہماری جدوجہد کو مضبوط کرے گی۔
این ایس یو آئی کے قومی صدر نے اتر پردیش پولیس کے ذریعے وارانسی میں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کی بھی شدید مذمت کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس طرح کے اقدامات اپوزیشن رہنماو ¿ں کو ڈرانے دھمکانے اور حکومت پر سوال اٹھانے والی آوازوں کو دبانے کی کوشش ہیں۔
جاکھڑ نے مبینہ ’چڑھاوا چوری‘معاملہ میں سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پورے معاملے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے اور ذمہ داروں کے خلاف جوابدہی طے کی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سرکار ملک کے طلباءاور نوجوانوں کی آواز کو کسی بھی طرح نہیں دبا سکتی۔
No Comments: