
کجریوال ای20-پٹرول کے خلاف عوام کے خطوط لے کر پی ایم ہاﺅس تک مارچ کریں گے آج
نئی دہلی، 3اگست (میرا وطن نیوز )
عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کجریوال نے دہلی لکشمی یوجنا میں سخت شرائط عائد کیے جانے پر بی جے پی کی ریکھا گپتا سرکارکو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی سرکارکو پنجاب کی عام آدمی پارٹی کی سرکارسے سبق سیکھنا چاہیے۔ آپ سرکارنے پنجاب میں کوئی شرط عائد نہیں کی ہے ۔ اگر ایک گھر میں چار خواتین ہیں تو چاروں کو ماواں-دھیاں ستکار یوجنا کا فائدہ مل رہا ہے۔ جبکہ دہلی سرکارنے 10سال سے دہلی میں رہائش کا ثبوت اور ایم پی-ایم ایل اے کی منظوری جیسی سخت شرائط عا ئد کر رکھی ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے’ وہ بہت کم خواتین کو اس یوجنا کا فائدہ دینا چاہتے ہیں ۔ اگر بی جے پی سرکار کی نیت صاف ہوتی تو یوجنا میں اتنی شرائط عائد نہ کرتی اور تمام خواتین کو فائدہ پہنچاتی۔
اروند کجریوال نے جنتر منتر پر ہونے والے سی جے پی کے احتجاج میں شامل ایک نابالغ بچی سے معافی منگوانے کی ویڈیو جاری کروانے پر وزیرِ اعظم پر شدید حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم جنتر منتر پر ویڈیو بنانے والی بچیوں کو پولیس کے زور پر ڈرانا بند کریں۔ ایک طرف وزیرِ ا عظم بچوں کو معاف کر نے کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف 15سالہ بچی سے معافی منگوا رہے ہیں ۔ یہ وزیرِ اعظم کو ز یب نہیں دیتا۔ آج کئی بچیاں مودی جی کے خلاف ویڈیوز پوسٹ کر رہی ہیں۔ مو دی جی آخر کس کس کو ڈرائیں گے اور کس کس کو جھکائیں گے؟ جس طرح وہ بے چاری ہاتھ جوڑ کر، نظریں جھکا کر پورے ملک کے سامنے بات کر رہی ہے، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسے بری طرح ڈرایا گیا ہے۔ ایک طرف وزیرِ اعظم آکر کہتے ہیں کہ بچو، میں نے آپ کو معاف کر دیا اور دوسری طرف وہ اپنی پوری طا قت لگا کر 15سال کی ایک چھوٹی سی بچی کو جھکا دیتے ہیں، اس سے معافی منگواتے ہیں اور پورے ملک کے سامنے اس کی ویڈیو جاری کرواتے ہیں۔ کیا یہ کسی وزیرِ اعظم کو زیب دیتا ہے؟
اروند کجریوال ای20-پٹرول کے خلاف عوام کے خطوط لے کر منگل کو وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ تک مارچ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دوپہر 12بجے 100لوگوں کے ساتھ آپ کے مرکزی دفتر سے وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے لیے روانہ ہوں گے۔ ہمیں امید ہے کہ وزیرِ اعظم ہم سے ملاقات کر یں گے اور ہماری بات سنیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ صرف چند دنوں میں ای20-کے خلاف 2,33,238لوگوں نے آن لائن وزیرِ اعظم کے نام عرضی پر دستخط کیے ہیں۔ میں نے وزیرِ اعظم سے ملاقات کے لیے ایک ماہ قبل وقت بھی مانگا تھا، لیکن اب تک ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم سے سوال کیا کہ کیا ٹرمپ کے دبا ¶ میں ملک پر زبردستی ایتھنول مسلط کیا جا رہا ہے اور کیا اگلے پانچ سال میں 20ارب ڈالر کا ایتھنول خریدا جائے گا؟
No Comments: