Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

’وندے ماترم‘ کا لزوم مسلمانوں کی آئینی ومذہبی آزادی کے برخلاف

آل انڈیا ملّی کونسل کے کارگزار صدر، مولانا انیس الرحمن قاسمی کا ردّعمل

نئی دہلی، یکم اگست ( میرا وطن نیوز ) آل انڈیا ملی کونسل نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے وندے ماترم کے نئے ضابطوں سے متعلق مسودہ قانون کی منظوری پر سخت ردّعمل اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مرکزی دفتر آل انڈیا ملّی کونسل سے جاری پریس بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ترمیمی بل وقار کی توہین کی روک تھام ایکٹ 1971 میں ترمیم کے نام پر ملک کے آئینی، جمہوری، سیکولر مزاج کے منافی اور شہریوں کی مذہبی آزادی پر سنگین حملہ ہے، جس پر آل انڈیا ملّی کونسل اپنی سخت بے چینی، اضطراب اور تشویش کا اظہار کرتی ہے۔
کارگزار صدر، آل انڈیا ملّی کونسل مولانا انیس الرحمن قاسمی نے اپنے ردّعمل کا اظہار کرتے ہوئے، قانون سازی کے ذریعہ کسی مخصوص مذہبی تصور یا عقیدے کو ملک کے تمام شہریوں پر مسلط کرنے کو ملک کے آئین کی بنیادی روح سے متصادم بتایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے، جس کا امتیاز اس کی ہمہ مذہبی ثقافت ہے۔ ملی کونسل نے اپنے سابقہ مطالبہ کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وندے ماترم‘ کو قانونی جبر کے ذریعہ تمام طبقات اور مذہبی برادریوں پر لازم کرنے کی کوشش دستور ہند کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ آنجہانی پنڈت جواہر لعل نہرو نے تو مسلمانوں کے مطالبے کے تناظر میں ہی بہت غور وخوض کے بعد اس کے ابتدائی دو بندوں کو ہی قومی سطح پر قبول کیا تھا، جبکہ اس کے دیگر حصوں کو ملک کے سیکولر کردار کے ساتھ ہم آہنگ نہیں سمجھا گیا تھا۔
آل انڈیا ملّی کونسل نے وندے ماترم کے بعض مندرجات کو مسلمانوں کے مذہبی تصورات کے خلاف بتایا ہے، کیونکہ بقیہ بندوں میں وطن کو ایک دیوی کی صورت میں پیش کرکے اس کی وندنا کی دعوت دی گئی ہے۔ یہ تصور مسلمانانِ ہند کے بنیادی عقیدہ توحید سے کلیتاً متصادم ہے۔ مسلمان صرف اپنے خالق، اللہ وحدہ کی عبادت کرتا ہے اور اس کی ذات، صفات، حقوق واختیارات میں کسی بھی درجہ کی شرکت اس کے ایمان کے منافی ہے۔
کارگزار صدر کونسل نے بیان میں آگے کہا کہ مسلمان اپنے وطن سے محبت کو اپنے دینی وشہری فریضے کا حصہ سمجھتے ہیں، لیکن وہ وطن کو معبود یا دیوی کا درجہ نہیں دے سکتے۔ انھوں نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمی نے بھی کہا تھا کہ اگر کسی شخص کا مذہبی عقیدہ اسے کسی مخصوص عمل میں شرکت سے روکتا ہو تو اسے محض عدم شرکت کی بنا پر سزا نہیں دی جاسکتی، جبکہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس شدہ بل کے تحت اسے وقار کا مسئلہ بناکر مجرمانہ فعل قرار دے دیا گیا ہے، جس پر ملی کونسل کو شدید اعتراض ہے اور اس فیصلے کو غیرمعمولی تشویش کی نظر سے دیکھتی ہے۔ یہ فیصلہ دستور ہند کی دفعہ25 اور دفعہ19 دونوں سے صریحاً متصادم ہے، لہٰذا آل انڈیا ملّی کونسل حکومت ہند سے اس فیصلہ پر نظرثانی کرنے کا پُرزور مطالبہ کرتی ہے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *