
معروف صحافی سہیل انجم بھی شریکِ ملاقات رہے
نئی دہلی، 20 جون(میرا وطن نیوز )
مسیحائے ملت، مجاہدِ اردو اور سماجی خدمت کے میدان کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر سید احمد خان کی نئی کلینک میں ہفتے کو ایک خوشگوار، علمی اور ادبی نشست منعقد ہوئی، جس میں ادب، صحافت اور سماجی خدمت سے وا بستہ شخصیات نے شرکت کی۔ ڈاکٹر سید احمد خان عرصہ دراز سے طب، خدمتِ خلق، ملی و سماجی سرگرمیوں اور اردو زبان و ادب کی سرپرستی کے حوالے سے ایک معتبر نام ہیں، اور ان کی نئی کلینک اسی خدمت گارانہ مشن کا تسلسل سمجھی جا رہی ہے۔
اس موقع پر قطر سے تشریف لائے معروف شاعر، افسانہ نگار اور ادبی شخصیت ڈاکٹر وصی الحق وصی بھی موجود تھے، جبکہ معروف صحافی سہیل انجم کی شرکت نے اس نشست کو مزید اہمیت اور وقار عطا کیا۔ ملا قات کے دوران ڈاکٹر وصی الحق وصی نے ڈاکٹر سید احمد خان کی خدمت میں اپنی دو تازہ تصانیف ’خواب منزل‘ (دیوانِ وصی) اور ’ٹوٹتی سانسوں کے درمیان‘(افسانوی مجموعہ) پیش کیں۔ یہ ادبی پیش کش نہ صرف باہمی محبت و احترام کا اظہار تھی بلکہ اردو ادب سے وابستہ شخصیات کے مابین فکری و تہذیبی رشتوں کی مضبوطی کی بھی ایک خوبصورت علامت ثابت ہوئی۔
اس موقع پر ڈاکٹر سید احمد خان نے بھی اپنے اوپر عبدالحی کی مرتب کردہ کتاب ’سید کام کرتا ہے‘ ڈاکٹر وصی الحق وصی کو پیش کی۔ یہ کتاب ڈاکٹر سید احمد خان کی ہمہ جہت شخصیت، طبی خدمات، سماجی وابستگی، ملی درد مندی اور اردو دوستی کے مختلف پہلوو ¿ں کو اجاگر کرتی ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ چند روز قبل نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں اس کتاب کی شاندار تقریبِ اجرا منعقد ہوئی تھی، جس میں علمی، ادبی، صحا فتی اور سماجی حلقوں کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی اور کتاب کو خوب سراہا گیا۔
ملاقات کے دوران ڈاکٹر سید احمد خان کی ملی، سماجی اور انسانی خدمات پر بھی گفتگو ہوئی۔ شرکاءنے اس بات پر زور دیا کہ ڈاکٹر سید احمد خان نے طب کو محض پیشہ نہیں بلکہ خدمتِ انسانیت کا موثر ذریعہ بنایا، اور یہی وصف انہیں عوام کے درمیان ایک خاص مقام عطا کرتا ہے۔ اردو زبان و ادب سے ان کی وابستگی، اہلِ قلم اور اہلِ علم کی سرپرستی، اور دکھی انسانیت کے لیے ان کا جذبہ خدمت انہیں واقعی ایک منفرد اور باوقار شخصیت کے طور پر نمایاں کرتا ہے۔
یہ ملاقات علم و ادب، صحافت، طب اور خدمتِ خلق کے حسین امتزاج کی ایک خوبصورت مثال بن کر سامنے آئی، جس نے اس حقیقت کو پھر تازہ کیا کہ جب معاشرے کی سنجیدہ اور بافکر شخصیات ایک جگہ جمع ہوتی ہیں تو مثبت فکر، تہذیبی شعور اور انسانی رشتوں کو نئی توانائی ملتی ہے۔
No Comments: