Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

تعلیم پر قومی پیداوار کا 6 فیصد خرچ ناگزیر، تجارت کاری و مرکزیت تعلیمی نظام کےلئے خطرہ: انجینئر سلیم

جماعت کا مرکزی تعلیمی بورڈ کے قومی آن لائن مذاکرے میں نِیتی آیوگ کی رپورٹ پر اظہار تشویش

نئی دہلی،18جون (میرا وطن نیوز )
مرکزی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین انجینئر محمد سلیم نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کے اندر سرکاری تعلیم سے بتدریج ریاستی دستبرداری، تعلیمی اداروں کی بڑھتی ہوئی تجارت کاری اور تعلیمی نظا م میں مرکزیت کے رجحانات مستقبل کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تعلیم پر مجموعی قومی پیداوار کا کم از کم 6 فیصد تک خرچ کیا جائے اور عوامی تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے یہ باتیں نِیتی آیوگ کے شعبہ تعلیم کی جانب سے جاری 200 صفحات پر مشتمل رپورٹ ’ہند وستان میں اسکولی تعلیمی نظام: زمانی تجزیہ اور معیاری بہتری کے لیے پالیسی روڈ میپ‘پر مرکزی تعلیمی بورڈ کے زیر اہتمام منعقدہ قومی آن لائن مذاکرے کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ مذاکرے میں ملک بھر کے ماہرینِ تعلیم، تعلیمی اداروں کے ذمہ داران اور محققین نے شرکت کی۔
انجینئر محمد سلیم نے کہا کہ موجودہ پالیسی کے رجحانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ریاست اپنی تعلیمی ذمہ داریو ں سے پیچھے ہٹ رہی ہے اور تعلیم کو بتدریج نجی اور کارپوریٹ شعبوں کے حوالے کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ تعلیم ایک بنیادی عوامی حق ہے، اسے منافع بخش کاروبار میں تبدیل ہونے سے بچانا ضر و ری ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور ڈاکٹریٹ کے شعبوں کو مناسب مالی وسائل فراہم کیے جائیں، تعلیمی اداروں میں کارپوریٹ مداخلت کو محدود، نصاب میں فرقہ وارانہ رجحانات کی حوصلہ شکنی اور آئینی اقدار یعنی انصاف، مساوات، آزادی اور اخوت کو فروغ دیا جائے۔
مذاکرے میں مرکزی تعلیمی بورڈ کے کوآرڈی نیٹر اور محقق ظفرالحق نے نِیتی آیوگ کے اعداد و شمار کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں 14.71 لاکھ اسکول، 24.69 کروڑ طلبہ اور ایک کروڑ اساتذہ موجود ہونے کے باوجود بنیادی خواندگی اور حسابی مہارت تشویش ناک حد تک کمزور ہے۔ جماعت سوم کے 27 فیصد، جماعت پنجم کے تقریباً 50 فیصد اور جماعت ہفتم کے 71 فیصد طلبہ دوسری جما عت کے درجے کا سادہ متن پڑھنے سے قاصر ہیں، جبکہ جماعت سوم کے 35 فیصد، جماعت پنجم کے 30 فیصد اور جماعت ہشتم کے 45 فیصد طلبہ سادہ تقسیم کے سوالات حل نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں 1.19 لاکھ اسکول بجلی سے محروم ہیں، 14 ہزار اسکولوں میں پانی کی سہولت موجود نہیں، تقریباً 98 ہزار اسکولوں میں طالبات کے لیے علیحدہ بیت الخلا نہیں ہیں، ایک لاکھ سے زائد اسکو ل صرف ایک استاد کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں، جبکہ تقریباً 8 ہزار اسکول ایسے ہیں جہاں کوئی طا لب علم زیر تعلیم نہیں۔
اس موقع پر مرکزی تعلیمی بورڈ کے سکریٹری سید تنویر احمد نے کہا کہ ”نِیتی آیوگ کی رپورٹ مسائل کی درست نشاندہی تو کرتی ہے لیکن ان کے حل کے لیے کوئی واضح لائح? عمل پیش نہیں کرتی۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ اساتذہ کو سالانہ اوسطاً 28 دن غیر تعلیمی سرکاری کاموں میں مصروف رکھا جاتا ہے، جس سے تدریسی عمل متاثر ہوتا ہے۔
مذاکرے کے اختتام پر انجینئر محمد سلیم نے اعلان کیا کہ مرکزی تعلیمی بورڈ مختلف سماجی اور تعلیمی تنظیموں کے تعاون سے ایک جامع پالیسی مسودہ تیار کرے گا جسے مرکزی وزارتِ تعلیم اور ریاستی محکمہ ہائے تعلیم کو پیش کیا جائے گا تاکہ تعلیمی نظام میں ضروری اصلاحات کو یقینی بنایا جا سکے

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *