
نئی دہلی،16مئی (میرا وطن نیوز)
جماعتِ اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے میں کمال مولا مسجد کو مندر قرار دئے جانے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سید سعادت اللہ حسینی نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے عدالتی نظام کی ساکھ، اقلیتی حقوق، مذہبی آزادی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ملک کے سیکولر ڈھانچے پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ یہ فیصلہ آئین کے آرٹیکل 25 اور 26 میں دئے گئے مذہبی حقوق کے تحفظ کے منافی ہے۔ کئی دہائیوں تک بھوج شالا کمپلیکس ایک ایسے انتظام کے تحت چلتا رہا جہاں دونوں فرقےکے افراد اپنی اپنی مذہبی رسومات ادا کرتے آئے تھے۔ مسلمانوں کے مذہبی حقوق کو ختم کرکے دوسرے فرقے کو ترجیح دینا نہ صرف انتظامی امور کو متاثر کرتا ہے بلکہ تمام مذاہب کے مساوی حقوق کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے حساس معاملات کو احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر ہندوستان جیسے کثیر الجہتی معاشرے میں توازن برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے۔
سید سعادت اللہ حسینی نے مزید کہا کہ قائم شدہ مسجد کے بدلے مسلمانوں کو متبادل زمین دینے کی تجویز بھی تشویش ناک ہے۔ مذہبی حقوق کو محض جگہ یا منتقلی کا مسئلہ نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ عبادت گاہیں تاریخی تسلسل، شناخت اور اجتماعی یادداشت سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ ایسے اقدامات جواقلیتی طبقے کو تاریخی مذہبی مقام سے بے دخل کرتے ہوں ، سماج میں احساس محرومی اور ناانصافی کو جنم دیتے ہیں۔ حساس معاملوں میں عدالتی فیصلے متنازع تاریخی شواہد اور آثارِ قدیمہ کی تشریحات پر انحصار گہری تشویش کا باعث ہیں۔ ایسے معاملوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ کسی ایک فریق کے دعووں کو غیر مناسب طور پر ترجیح نہ دی جائے۔
سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ اس فیصلے کو ماضی کے فیصلوں سے کو الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ یہ ایک وسیع تر رجحان کا حصہ ہے جس میں مذہبی مقامات سے متعلق تنازعات کو دوبارہ چھیڑا جا رہا ہے، جبکہ عبادت گاہوں سے متعلق 1991 کے قانون (Places of Worship Special Provisions Act, 1991) کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد آزادی کے وقت موجود مذہبی عمارتوں کی حیثیت کو برقرار رکھنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 1991 کے قانون کو من عن نافذ کیا جانا چاہیے تاکہ تاریخی تنازعات کو دوبارہ سر اٹھانے کا موقع نہ ملے۔ اس اصول میں کسی بھی قسم کی کمزوری فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور سماجی استحکام پر دور رس اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اس معاملے کو آئینی اقدار، انصاف اور تمام طبقات کے لیے مساوی عدل کے جذبے کےساتھ حل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو نہ صرف غیر جانب دار ہونا چاہیے بلکہ اس کی غیر جانب داری نظر بھی آنی چا ہیے ۔ بدقسمتی سے عدلیہ کا عمل اس کے برعکس ہے، جس کی وجہ سے اس اہم ادارے کی ساکھ، وقار اور عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔ سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ اس معاملے میں مسلم برادری تمام قانونی راستے اختیار کرے گی، جن میں اپیل کا امکان بھی شامل ہے، تاکہ ملک کے تمام شہریوں بالخصوص اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیاجا سکے اور اس مسئلے کو آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے مناسب طور پر حل کیا جا سکے۔
No Comments: