
نئی دہلی، 3 مئی (میرا وطن نیوز)
پروفیسر احمد سجاد مرحوم بڑے مخلص ، متحرک، فعال ، درد آشنا، جہاں دیدہ اور جہاں آرا شخصیت کے ما لک تھے۔ ان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ وہ جہاں بھی رہے اپنے ماحول سے ہمیشہ بر سر پیکار ا ور ستیزہ کار رہے۔ انہوں نے کبھی ضمیر کا سودا نہیں کیا۔ جرائت مندی، بہادری اور حق گوئی ان کا شیوہ خا ص تھا۔ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر حسن رضا (سا بق صدر ادارہ ادب اسلامی ہند) نے ادارہ ادب ا سلامی ہند کے زیر اہتمام ممتاز ادیب، محقق اور دانشور پرو فیسر احمد سجادکے سانحہ ارتحال پر منعقد تعزیتی اجلاس میں کیا۔ یہ نشست مرکز جماعت اسلا می ہند کے میڈیا ہاﺅس میں منعقد ہوئی۔
جماعت اسلامی ہند کے سابق نائب امیر مولانا محمد جعفر نے اپنے ایک تحریری پیغام میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم حقیقی معنوں میں ایک خودگر و خودنگر شخصیت کے مالک تھے۔ سکریٹری شر یعہ کونسل ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی نے اظہارغم کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر احمد سجاد ادبِ اسلامی کے نقیب رہے ہیں۔ وہ ادارہ ادب اسلامی ہند کے رہ نماﺅں میں سے تھے۔
مشیر مالیات جماعت اسلامی ہند ڈاکٹر وقار انور نے ان کی دینی خدمات اور جماعت اسلامی ہند کی مر کز ی مجلس شوریٰ میں ان کے فعال کردار کو سراہا۔ ترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے احمد سجاد کی علمی بصیرت، اعتدال پسند فکر اور ملی مسائل پر ان کے دانشورانہ کردار کو اجاگر کیا۔ ادارہ ادب اسلامی ہند کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر خالد مبشر نے کہا کہ انھوں نے ادارے کے استحکام اور اس کی فکری سمت کے تعین میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی تنقیدی و تحقیقی خدمات کو ادبی دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
سکریٹری ادارہ ادب اسلامی ہند مصدق مبین نے کہاان کی زندگی صحیح معنوں میں یقیں محکم ، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم کی مصداق تھی۔ ماہ نامہ ’پیش رفت‘کے معاون مدیر محمد ساجد ندوی نے کہا کہ مرحوم کے اندر مضطرب طبیعت، متجسس ذہن اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ و ولولہ موجود تھا۔ اس موقع پر مرحوم کے صا حبزادے فیصل سجاد نے اپنے والد سے وابستہ کچھ ایسی یادیں بیان کیں، جس سے ان کی مثالی شخصیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
No Comments: