
آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی جامعہ یونٹ نے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو شیئرکیا
یونیورسٹی انتظامیہ نے ابھی تک اس پورے معاملے پر کوئی فوری ردعمل جاری نہیں کیا ہے
نئی دہلی ،3مئی (میرا وطن نیوز )
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے زیر اہتمام ایک پروگرام کے حوالے سے ملک کے سب سے باوقار تعلیمی اداروں میں سے ایک جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تنازعہ ختم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آ ر ہے ہیں۔ صورتحال اب اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف کے لیے اپنے ہی کیمپس میںمخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔حالیہ معاملہ جمعہ کی رات (یکم مئی) کا بتایا جا رہا ہے جس میں طلباءکا غصہ ایک بار پھر پھوٹ پڑا۔ بوائز ہاسٹل کی سالانہ تقریب کے د و ران طلباءنے وائس چانسلر کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ طلباءکے غم و غصے کو دیکھتے ہوئے وائس چانسلر مظہر آصف بظاہر بے چین نظر آئے۔ انہیں پروگرام درمیان میں ہی چھوڑ کر جانا پڑا ۔
غور طلب ہے کہ پچھلے دنوں طلبہ کا یہ احتجاج آر ایس ایس کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر یونیورسٹی کیمپس کے اندر پروگرام منعقد کرنے کی اجازت دینے کے فیصلے سے شروع ہوا تھا۔ اس تقریب میں جا معہ کے وائس چانسلر اور رجسٹرار دونوں موجود تھے۔ اس فیصلے کے خلاف طلبہ نے زبردست احتجاج کیا تھا۔الزام ہے کہ اس وقت مظاہرے کو روکنے کی کوشش میں جامعہ کے کئی عملے کے ارکان نے مبینہ طور پر طلباءکے ساتھ نوک جھونک ہوئی اور نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی تھی۔ الزام ہے کہ اس جھگڑے کے دوران کچھ طلباءزخمی ہوئے تھے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
دریں اثناءگزشتہ جمعہ کو بوائز ہاسٹل کا سالانہ پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں شرکت کے لیے وائس چانسلر پروفیسرمظہر آصف پہنچے تھے۔ وائس چانسلر کو دیکھ کر طلبہ مشتعل ہو گئے اور ’وی سی، واپس جا و ¿‘ کے نعرے لگانے لگے۔ اس واقعے کا ایک ویڈیو کلپ اب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تیزی سے وائر ل ہو رہا ہے۔اس وائرل ویڈیو میں طلبہ کو وائس چانسلر کو دیکھ کر نعرے لگاتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ طلباءکے اس احتجاج کے درمیان وائس چانسلر بظاہر بے چین دکھائی دیے اور بعد میں انہیں اپنے پورے عملے کے ساتھ ہجوم سے جلدی سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (اے آئی ایس اے ) کی جامعہ یونٹ نے سوشل میڈیا پر اس واقعے کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے۔آئیسا کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ہاسٹلز میں مقیم طلباءنے تقریب میں وائس چانسلر کی موجودگی پر اعتراض کیا۔ طلبہ کا الزام ہے کہ یونیورسٹی کے ماحول کو ایک خاص سمت میں لے جانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے اسے کیمپس کے بنیادی کردار کو بدلنے کی کوشش قرار دیا۔
طلبہ تنظیم نے مزید الزام لگایا کہ پروگرام کے دوران وائس چانسلر نے احتجاجی طلبہ کے خلاف توہین آ میز زبان استعمال کی۔ ان کے مطابق، ایک عوامی پلیٹ فارم سے طلباءکے خلاف ایسے الفاظ کہے گئے جو ناگوار تھے اور ان کے وقار کو مجروح کرتے تھے۔ تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے ابھی تک اس پورے معاملے پر کوئی فوری ردعمل جاری نہیں کیا ہے۔
اپنے بیان میںآئیسا نے نوٹ کیا کہ جوہر ہال کے طلباءنے تقریب کے دوران وائس چانسلر کے خلا ف نعرے لگائے۔ تنظیم کا الزام ہے کہ حال ہی میں آر ایس ایس سے منسلک پروگرام میں وائس چانسلر کے کردار نے طلباءکو ناراض کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جب طلباءنے احتجاج کیا تو وائس چا نسلر نے نازیبا کلمات استعمال کرتے ہوئے مخاطب کیا۔
غور طلب ہے کہ جامعہ میں طلباءکی ناراضگی اچانک نہیں بھڑکی۔ بلکہ یہ ایک جاری احتجاج کا حصہ ہے جو پچھلے کچھ دنوں سے جاری ہے۔ حال ہی میںیونیورسٹی کیمپس کے اندر آر ایس ایس کی “100 ویں سالگرہ” کے موقع پر “یووا کمبھ” کے عنوان سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ طلباءکا الزام ہے کہ یو نیو رسٹی انتظامیہ نے اس تقریب کے انعقاد کو آسان بنانے کے لیے اعلیٰ ترین سہولیات فراہم کیں۔ طلباءکا غصہ اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب وائس چانسلر مظہر آصف اور رجسٹرار پروفیسر مہتاب عالم رضوی کو آر ایس ایس سے منسلک پروگرام میں سٹیج پر شریک ہوتے دیکھا گیا۔
اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی)، این ایس یو آئی ، اور آئیسا جیسی تنظیموں نے اس کے خلاف اپنا احتجاج درج کرایا تھا۔ طلباءنے دلیل دی کہ اس طرح کے واقعات یونیورسٹی میں متعصبانہ اور تفرقہ انگیز ذہنیت کو پروان چڑھاتے ہیں۔ 28 اپریل کو بھی ’یووا کمبھ‘ پروگرام کے دوران طلباء کیمپس میں جمع ہوئے اور انتظامیہ سے جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کیمپس کے احاطے میں جمع ہو کر احتجاج کیا اور انتظامیہ سے جوابدہی کا مطالبہ کیا۔ تنازعہ مز ید گہرا ہوا جب اسی پروگرام کے دوران وائس چانسلر نے چونکا دینے والا دعویٰ کیا۔ وی سی مظہر آصف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’تمام ہندوستانی لوگ مہادیو کا ڈی این اے رکھتے ہیں۔‘ مزید برآں، انہو ں نے سناتن روایات کو مناسب جگہ دینے کی وکالت کی۔ ان بیانات پر متعدد طلبہ تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی، طلبہ نے انھیں غیر سائنسی اور جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا۔
No Comments: