Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

ہمارے ڈی این اے میں مہا دیو کا ڈی این اے ہے:پروفیسر مظہر آصف

طلبا تنظیم ایس ایف آئی نے آر ایس ایس سے منسلک تنظیم ’یووا کمبھ ‘کو اجازت دینے پرسخت مخالفت کی ، بڑی تعداد میں طلبا نے کیمپس میں کیا مظاہرہ ،پلے کارڈ ہاتھوں میں لے کر زبر دست نعرے بازی کی

نئی دہلی ،28اپریل (میرا وطن نیوز )
جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ یہاں، طلباء تنظیم ایس ایف آئی نے را شٹر یہ سویم سیوک سنگھ کی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہونے والے پروگرام کی سخت مخالفت کی ہے۔جامعہ انتظامیہ کے ذریعہ آر ایس ایس سے منسلک ایک تنظیم ’یووا کمبھ‘ کویونیورسٹی کیمپس میں منگل کے دن پروگرام کرنے کی اجازت دینے کے خلاف طلبا نے پروگرام مقام کے باہر احتجاجی مظا ہرہ کیا ۔ اس دوران طلبا نے پہلے کیمپس میں جلوس نکالا اور ان کے ہاتھوں میں مختلف نعرے لکھے پلے کارڈتھے ۔طلبا نے پروگرام مقام تک آر ایس ایس اور یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف زبر دست نعرے با ز ی کی ۔ یونیورسٹی طلبا کے شدید غصے کو دیکھتے ہوئے کیمپس میںبھاری تعداد میں سیکورٹی فورس تعینا ت کی گئی تھی ۔ ادھر سوشل میڈیا پرملک اور بیرونی ممالک میں رہائش پذیر جامعہ ایلومنی نے جامعہ انتظامیہ کے ذریعہ اس پروگرام کی اجازت دیے جانے اور وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف کے شامل ہونے کے ساتھ ان کی تقریر کے اس نکات پر شدید رد عمل ظاہر کیا ہے کہ جس میں وہ کہہ رہے ہیں ہمارے ڈی این اے میں مہادیو کا ڈی این اے ہے۔ اس موقع پرایس ایف آئی کی جامعہ یونٹ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ پر کڑ ی تنقید کی ہے۔انہوں نے سوال کیا ہے کہ انتظامیہ نے آر ایس ایس سے منسلک ایک تنظیم یووا کمبھ’ کو 28 اپریل کو کیمپس میں اس تقریب کے انعقاد کی اجازت کیوں دی؟ تنظیم نے اس تقریب کی میز بانی کو اقلیتی طلباء کے خلاف براہ راست اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیمپس میں ہزار وں اقلیتی طلباء کے گھر میں اس طرح کی تقریب سے ان کی سلامتی اور تحفظ کو نقصان پہنچتا ہے۔ یہ تقر یب ‘یووا کمبھ’ کے بینر تلے منعقد کی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر اس کے آفیشل پیج کے مطابق، اس تقریب کا مقصد آر ایس ایس کی خدمت کے صد سا لہ سال اور اس کے ’نیشن فرسٹ‘نظریہ کو منانا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو سیکھنے، متحد ہو نے اور سماجی خدمت میں مشغول ہونے کی ترغیب دینا ہے۔ اپنا احتجاج درج کرانے کے لیے اسٹوڈ نٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی ) نے بھی اس تقریب کا ایک پوسٹر شیئر کیا ہے۔
اس موقع پر طلبانے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس کی صد سالہ تقریب کے موقع پر دہلی یونیورسٹی سے وابستہ کئی کالجوں میں اسی طرح کی تقریبات کا انعقاد کیا گیا، جہاں انہیں بڑے پیما نے پر مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اب یہی تقریب جامعہ میں بھی منعقد کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے کیمپس کے اندر نظریاتی تقسیم اور تصادم کے امکانات واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔
ایس ایف آئی نے اپنے بیان میں یونیورسٹی انتظامیہ کے سامنے کئی واضح مطالبات رکھے ہیں۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ 28 اپریل کو ہونے والے اس پروگرام کے لیے دی گئی اجازت کو فوری طور پر منسوخ کیا جانا چاہئے تھا۔ انہوں نے انتظامیہ سے یہ واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے کہ اس تقریب کو پہلے کیوں منظور کیا گیا تھا۔ مزید برآں، طلباء نے یہ یقین دہانی مانگی ہے کہ مستقبل میں کسی بھی تقسیم یا فرقہ وارانہ تنظیم کو یونیورسٹی کیمپس میں جگہ نہیں دی جائے گی۔
دوسری طرف جامعہ انتظامیہ نے ابھی تک اس پورے تنازعہ اور ایس ایف آئی کی طرف سے اٹھائے گئے مطالبات کے حوالے سے کوئی سرکاری بیان یا ردعمل جاری نہیں کیا ہے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *