
نئی دہلی ،12اپریل (میرا وطن )
راجدھانی میںپرائیویٹ ا سکولوں کی طرف سے فیسوں، نصابی کتب اورا سکول یونیفارم کی آڑ میں من مانی فیس وصو ل کرنے کا معاملہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ والدین اس معاملے پر شدید ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر اپنے غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس کی روشنی میں کرشنا سوشل ویلفیئر ٹر سٹ نے طلباءکے اہل خانہ کے ساتھ مل کر نجف گڑھ کے ’امیجنگ ٹیسٹی ریسٹورنٹ‘ میں منعقد پریس کا نفر نس کا اہتمام کیا۔
اس موقع پر ٹرسٹ کے صدر پرمجیت سنگھ پما اور راجیش چوہان موجود تھے۔ تقریب کے دوران، کرشنا سوشل ویلفیئر ٹرسٹ نے اپنے ‘ایجوکیشن ونگ’ کے لیے ایک نئی ٹیم تشکیل دینے کا اعلان کیا۔ پریس کانفرنس کے دوران ٹرسٹ نے اس نئی ٹیم کے ارکان کا تعارف کیا، جس میں ڈاکٹر اندو ورما، راجیش کمار، امان کمار بنسل، ایڈوکیٹ کرم ویر، اور سنتوش یادو شامل ہیں۔
پریس کانفرنس پرمجیت سنگھ پما اور راجیش چوہان نے کہا کہ یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے کہ اسکول انتظامیہ من مانی سے کام لے رہی ہے جبکہ سرکار اور انتظامیہ مکمل طور پر خاموش ہے۔ انہوں نے الزا م لگایا کہ اسکول نصابی کتب اور یونیفارم کے لیے بہت زیادہ قیمتیں-اصل قیمت سے کئی گنا-وصول کر ر ہے ہیں۔ نصابی کتابیں جو کھلے بازار میں تقریباً 2ہزار سے 2,500 میں دستیاب ہیں، اسکو لوں میں 8ہزارسے 8,500 تک کی قیمتوں میں فروخت ہو رہی ہیں۔ مزید برآں، والدین پر دباو ¿ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ یہ کتابیں خصوصی طور پر سکول سے ہی خریدیں۔
پرمجیت سنگھ پما اور راجیش چوہان نے کہا کہ یہ نظام خاندانوں پر بڑھتا ہوا مالی بوجھ ڈال رہا ہے، بہت سے والدین کو قرض لینے پر مجبور کر رہے ہیں۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ ایسے ماحول میں تعلیم حاصل کر نے والا بچہ بھی ذہنی طور پر متاثر ہوتا ہے – ایک ایسا اثر جو مستقبل میں ان کی ذہنیت اور معاشرے کی طر ف ان کے نقطہ نظر کو ممکنہ طور پر تشکیل دے سکتا ہے۔
اس صورتحال کو کرپٹ نظام کی ابتدا قرار دیتے ہوئے انہوں نے زور دے کر کہا کہ تعلیم ہمیشہ قابل رسائی اور سستی ہونی چاہیے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ہر بچہ بغیر مالی دباو ¿ کے اپنی تعلیم حاصل کر سکے اور ایسا کرنے سے وہ ملک اور معاشرے دونوں کی خدمت کر سکے۔ اس موقع پر کرشنا سوشل ویلفیئر ٹرسٹ نے ’ایجوکیشن بینک‘شروع کرنے کا بھی اعلان کیا۔ اس اقدام کے تحت ضرورت مند بچوں کو کتابیں اور تعلیمی مواد کی فراہمی میں مدد فراہم کی جائے گی، اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کوئی بچہ مالی مشکلات کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے۔
No Comments: