
نئی دہلی ،2اپریل (میرا وطن نیوز)
آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ اسرائیلی پارلیمنٹ نے پچھلے دنوں جو قانون پاس کیا ہے، اس کے تحت جن فلسطینیوں پر اسرائیلی شہری کے قتل کے مرتکب ہو نے کا الزام ہے، ان کو پھانسی کی سزا دی جائے گی، اگر اسرائیلی شہری فلسطینیوں کے خلاف اسی جرم کا مرتکب ہو تو اس کے لیے یہ سزا لازم نہیں، یہ سراسر انصاف اور شہریوں کے درمیا ن مساوات کے خلا ف ہے اور بین اقوامی ضوابط کے مغایر ہے، پوری دنیا کی انصاف پسند قوتوں کو شد ت کے ساتھ اس کے خلاف احتجاج کرنا چاہئے، ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، اس لحاظ سے اس کا فرض ہے کہ وہ اسرائیل کے اس اقدام کی مخالفت کرے اور اپنی سیکولر روایات کو داغ دار نہ ہونے دے۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ ہماری سرکار کو یہ بات بھی ملحوظ رکھنی چاہیے کہ مہاتما گاندھی جی سے لے کر اٹل بہاری واجپائی تک ہندوستان نے ہمیشہ انصاف اور مظلوموں کی حمایت کے تحت فلسطین کے موقف کی حمایت کی ہے، اسرائیل کی توسیع پسندی کی مخالفت کی ہے، نیز بین الاقوامی مفاد ات اور معاشی وسماجی تعلقات کے پس منظر میں عرب ملکوں سے تعلق کو ترجیح دی گئی ہے؛ کیونکہ یہ مما لک ہمارا تعاون بھی کرتے ہیں اور ہندوستان کے فنی ماہرین کو بڑے پیمانے پر ان ملکوں میں روزگار حا صل ہوتا ہے، اس کے باوجود ہندوستان کا اسرائیل کے تئیں جھکاﺅ نہایت افسوسناک ہے، سرکارکو چاہیے کہ وہ اپنی اس بدلتی ہوئی پالیسی پر نظر ثانی کرے اور انصاف کا دامن نہ چھوڑے۔
No Comments: