Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

بڑھی ہوئی فیس ادا نہ کرنے پر نجی اسکولوں نے بچوں کے نتائج روک دیے ،نام کاٹنے کی دھمکی

ریکھا گپتا سرکار کے نئے قانون کے باوجود کسی بھی نجی اسکول نے بڑھی ہوئی فیس واپس نہیں کی :بھاردواج

نئی دہلی، 30مارچ(میرا وطن نیوز )
دہلی کے نجی اسکولوں نے ایک بار پھر والدین کو بلیک میل کرنا شروع کر دیا ہے۔ جن والدین نے گز شتہ سال بڑھائی گئی ناجائز فیس جمع نہیں کی،اسکولوں نے نہ صرف ان کے بچوں کے نتائج روک دیے ہیں بلکہ ان کا نام کاٹنے کی دھمکی بھی دے رہے ہیں۔ اس طرح کی متعدد شکایات موصول ہونے پر عام آدمی پارٹی کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے بی جے پی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اور وزیر تعلیم آشیش سود کو ان کے نئے قانون سے متعلق کیے گئے دعو ¶ں کی یاد دلائی۔ انہوں نے کہا کہ سرکار کے نئے قانون کے باوجود کسی بھی نجی اسکول نے بڑھی ہوئی فیس واپس نہیں کی ہے۔
سوربھ بھاردواج نے کہا کہ ایک بار پھر نجی اسکولوں نے والدین سے زائد فیس وصول کرنے کے لیے بلیک میلنگ اور دبا ¶ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ گزشتہ سال وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اور آشیش سود نے والد ین کو یقین دہانی کرائی تھی کہ سرکار کے نئے قانون کے آنے کے بعد نجی اسکولوں کی لوٹ ختم ہو جائے گی، لیکن یہ وعدہ جھوٹا ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت نجی اسکول مالکان کے مفاد میں کام کر رہی ہے، اسی لیے والدین کو ہراساں کرنے والے اسکولوں کے خلاف اب تک ایک بھی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ حکومت اور نجی اسکولوں کا مقصد فیس میں اضافے کے خلاف لڑنے والے چند والدین کو توڑنا ہے تاکہ آئندہ کوئی آواز نہ اٹھے۔
سوربھ بھاردواج نے کہا کہ مارچ-اپریل کا مہینہ دوبارہ آ چکا ہے۔ گزشتہ سال دہلی میں بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد یکم اپریل سے تقریباً تمام نجی اسکولوں نے اپنی فیس بڑھا دی تھی۔ اس سال بھی والدین پر ناجائز بڑھی ہوئی فیس ادا کرنے کے لیے اسکولوں کی طرف سے دبا ¶ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف چند والدین ہی اس غیر قانونی فیس کے خلاف لڑ رہے تھے، کیونکہ اکثر والدین کے پاس اس جدوجہد کے لیے وقت نہیں ہوتا۔ اسی لیے کچھ والدین اور پیرنٹ باڈیز ہائی کورٹ میں یہ لڑائی لڑ رہے تھے اور پرانی فیس ہی لینے کا مطالبہ کر رہے تھے، مگر اب نجی اسکول بچوں کے نتائج روک رہے ہیں اور ان کا نام کاٹنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔

Next Post

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *