Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

بھجن پورہ میں ہندوﺅں نے آگ میں پھنسے مسلم خاندانوں کو بچا کر نفرت پھیلانے والی طاقتوں کو کرار جواب دیا ہے

پڑوسی ہندو چادر تان کر کھڑے ہوگئے اور آگ میں پھنسے 20-25افراد نے چھلانگ لگا کراپنی جان بچائی

نئی دہلی، 30مارچ(میرا وطن نیوز )
عام آدمی پارٹی نے بھجن پورہ کے چاند باغ کالونی میں واقع پانچ منزلہ عمارت میں لگنے والی آگ کے دوران نظر آنے والی ہندو-مسلم یکجہتی کی بھرپور ستائش کی ہے۔ آپ کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھا ر د واج نے کہا کہ بھجن پورہ میں ہندو ¶ں نے نہ صرف آگ میں پھنسے مسلم خاندانوں کو بچایا بلکہ نفرت پھیلانے والی طاقتوں کو بھی سخت جواب دیا۔ رات تقریباً دو بجے پڑوس میں رہنے والے ایک ہندو خا ند ان کو آگ لگنے کا علم ہوا، جس کے بعد انہوں نے فوراً لوگوں کو جمع کیا۔ سب نے فائر بریگیڈ کا انتظا ر کیے بغیر چادر تان کر کھڑے ہو گئے، جس پر کود کر 20سے 25افراد نے اپنی جان بچائی۔ انہوں
نے کہا کہ اگر پالَم آتشزدگی کے دوران فائر بریگیڈ گدّے بچھانے دیتی تو وہاں بھی سبھی لوگوں کی جا ن بچ سکتی تھی۔ انہوں نے سرکارسے مطالبہ کیا کہ فائر بریگیڈ کے عملے کو بہتر تربیت دی جائے اور اسکولی بچوں کو بھی بچا ¶ کے طریقے سکھائے جائیں۔
آپ کے ہیڈکوارٹر میں منعقدپریس کانفرنس میںسوربھ بھاردواج نے کہا کہ جب پالَم میں آگ لگی تھی، ا گر اس وقت فائر بریگیڈ اور دہلی پولیس نیچے گدّے بچھانے دیتی تو شاید تمام 9لوگوں کی جان بچ سکتی تھی۔ پالَم کے واقعے کا اثر ہفتہ کی رات دہلی کے بھجن پورہ علاقے کے چاند باغ کالونی میں بھی دیکھا گیا، جہاں شدید آگ لگی۔ آگ بیسمنٹ یا گرا ¶نڈ فلور کی پارکنگ سے شروع ہوئی جہاں گاڑیو ں میں آگ لگی، اور پھر اوپر کی منزلوں تک پھیل گئی، جس سے عمارت میں دھواں بھر گیا۔ رات تقریباً دو بجے جب لوگوں کا دم گھٹنے لگا تو انہیں نیچے آگ لگنے کا احساس ہوا۔سوربھ بھاردواج نے بتایا کہ اس آگ میں تقریباً 20سے 25افراد پھنسے ہوئے تھے۔ اس پانچ منزلہ عمارت میں رہنے والے زیا دہ تر لوگ مسلم برادری سے تعلق رکھتے تھے۔
سوربھ بھاردواج نے کہا کہ اس واقعے کی سب سے خوبصورت بات یہ رہی کہ جب انہوں نے مدد کے لیے چیخنا شروع کیا تو سب سے پہلے مدد کے لیے ان کے پڑوسی منوج کمار شرما سامنے آئے، جو ایک ہندو برہمن ہیں اور آٹے کی چکی چلاتے ہیں۔ انہوں نے شور مچا کر آس پاس کے لوگوں کو جگایا اور رات دو بجے ہی بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *